فیصل آباد( سٹاف رپورٹر)قائمہ کمیٹی برائے ویمن ہیلتھ کا دوسرا اجلاس بمناسبت عالمی یوم صحت(World Health Day)قائمہ کمیٹی برائے ویمن ہیلتھ کی کنوینئر ڈاکٹر نجمہ افضل نے اجلاس کا آغاز کیا اور تمام معزز مہمانا ن خصوصی ، مقررین اور شرکا کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی یوم صحت کے موقع پر اس اہم موضوع موٹا پا اور جسمانی فٹنس پر اجلاس منعقد کرنے کا مقصد معاشرے بالخصوص خواتین میں صحت مند طرز زندگی کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ڈاکٹر محمد سعید ( گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد )، ڈاکٹر مدیحہ الیاس ( ہیڈ آف نیوٹریشن ڈیپارٹمنٹ ) ، ڈاکٹر ناز یہ ملک (اسٹنٹ پروفیسر سوشیالوجی ) اور ڈاکٹر عابدہ (فلس ایکسپرٹ ) ، فاروق یوسف شیخ صاحب صدر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے بطور مقررا جلاس میں شرکت کی اور صحت کے اہم موضوعات پر قیمتی معلومات فراہم کرنے کے لیے اپنا وقت نکالا۔ ڈاکٹر نجمہ افضل نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں غیر صحت مند طرز زندگی، غیر متوازن خوراک اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی کے باعث موٹا یا ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے جو مختلف بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے خواتین کی صحت کو تر جیح دینا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے فیصل آباد ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FWCCI) کی معزز قیادت محترمہ شاہدہ آفتاب (صدر)، اور محتر مہ روبینہ امجد ( فانڈر پریذیڈنٹ) کی شرکت کو بھی سراہا اور کہا کہ خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے اداروں کے درمیان تعاون نہایت اہم ہے۔ انہوں نے اپنے ابتدائی کلمات میں یہ پیغام بھی دیا ؟ صحت مند زندگی کی طرف ایک قدم بڑھائیں کیونکہ آج کی فٹنس ہی کل کے بہتر مستقبل کی بنیاد ہے۔”مقررین کے تفصیلی خطابات فاروق یوسف شیخ صاحب صدر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کہا کہ آج ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم خواتین کی صحت کے حوالے سے اسٹینڈ نگ کمیٹی کے اجلاس میں جمع ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے میں تمام شرکا کو خوش آمدید کہتا ہوں اور ان کا شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے خواتین کی صحت کے فروغ اور ان کے مسائل کے حل کے لیے اپنا وقت نکالا۔ خواتین ہماری معاشرت کی بنیاد ہیں۔ ایک صحت مند معاشرہ تب ہی ترقی کر سکتا ہے جب اس کے خواتین حصے کی صحت، تعلیم اور فلاح پر توجہ دی جائے۔ آج کا یہ اجلاس خواتین کی صحت کے اہم موضوعات، جیسے غذائیت قبل از پیدائش اور بعد از پیدائش دیکھ بھال ، ذہنی صحت، خواتین میں بیماریوں کی روک تھام ، اور سہولیات تک رسائی پر مرکوز ہوگا۔ ہم سب کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ خواتین کے لیے صحت کے شعبے میں ایسے اقدامات کیے جائیں جو نہ صرف ان کی زندگیوں میں بہتری لائیں بلکہ ہمارے معاشرتی نظام کو بھی مضبوط بنائیں۔




