فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) عیدالاضحی کے ایام میں تیز رفتاری’ ون ویلنگ کے باعث مجموعی طور پر 329 حادثات میں خاتون سمیت 8افراد جاں بحق’ 400 کے لگ بھگ زخمی ہو گئے جبکہ سٹی ٹریفک پولیس نے خطرناک انداز میں ڈرائیونگ کرنے والے 14 افراد کو پکڑ کر حوالات بند کر وا دیا’ اوورچارجنگ کرتے 423 گاڑیوں کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے 414 گاڑیوں کے چالان کئے گئے اور تیز رفتاری کے باعث 400 ڈرائیورز کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ تفصیل کے مطابق تھانہ فیکٹری ایریا کے علاقہ سمندری روڈ بائی پاس ٹائی ٹینک ہوٹل کے قریب حادثہ پیش آیا جہاں پر ذوالفقار علی نے بتایا کہ وہ اپنے دوستوں اسماعیل اور شعیب کے ہمراہ کام سے فارغ ہو کر چائے کے ڈھابا کے باہر چارپائیاں بچھا کر سو گئے کہ رات کو تیز رفتار گاڑی اسماعیل کو کچلتے ہوئے ڈھابا میں گھس گئی، مضروب کو سنبھالا تو وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا جبکہ ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا۔ دوسرا حادثہ تھانہ بلوچنی کے علاقہ شیخوپورہ روڈ 69 رب کے قریب پیش آیا جہاں پر غلام مصطفی اپنی اہلیہ رضیہ بی بی کے ہمراہ موٹرسائیکل پر شہر کی طرف آ رہا تھا جب وہ 69 رب کے قریب لاہور کی طرف سے آنیوالی تیز رفتار بس کی ٹکر لگنے سے میاں بیوی بری طرح زخمی ہو گئے، جنہیں ہسپتال پہنچایا تو رضیہ بی بی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئی، جھنگ روڈ اڈا سدھار کے قریب نامعلوم کار کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار دو بھائی 35سالہ علی رضا اور 30سالہ ثقلین سکنہ نواں لاہور بُری طرح زخمی ہو گئے جنہیں تشویشناک حالت میں ہسپتال پہنچایا جہاں پر علی رضا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ امین پور بائی پاس کے قریب موٹرسائیکل سوار 36 سالہ لیاقت ولد شریف تیز رفتار مزدا کی کی ٹکر لگنے سے زندگی کی بازی ہار گیا، سمندری روڈ گرڈاسٹیشن کے قریب پیدل سڑک عبور کرنے والا ضعیف العمر شکیل احمد تیز رفتار گاڑی کی ٹکر لگنے سے جاں بحق ہو گیا، نلکہ کوہالہ روڈ پر تیز رفتار کار کی ٹکر لگنے سے موٹرسائیکل سوار محمد بوٹا زندگی کی بازی ہار گیا، ٹھیکری والا کے علاقہ اڈا جھپال کے قریب تیز رفتار گاڑی کی ٹکر لگنے سے عید محمد عرف عیدو اور ماموں کانجن کے علاقہ میں تیز رفتار ڈمپر کی زد میں آ کر موٹرسائیکل سوار زبیر زندگی کی بازی ہار گیا جبکہ عیدالاضحی کے ایام میں منچلے نوجوان شہر کی مختلف شاہراہوں پر ون ویلنگ کرتے رہے اور ٹریفک پولیس اور ون ویلرز کی آنکھ مچولی جاری رہی، ون ویلنگ اور تیز رفتاری کے باعث مختلف مقامات پر مجموعی طور پر 329 حادثات رونما ہوئے، جن میں خاتون سمیت دو افراد چل بسے جبکہ 400 کے لگ بھگ افراد زخمی ہو کر ہسپتال پہنچے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں سٹی ٹریفک پولیس نے بھی عیدالاضحی کے ایام میں ون ویلنگ اور خطرناک انداز میں ڈرائیونگ کرنے والوں کیخلاف کریک ڈائون کرتے ہوئے 14افراد کیخلاف مقدمات درج کروائے اور عید کے ایام کے دوران اوورچارجنگ کرنے والی گاڑیوں کی چیکنگ کرتے ہوئے 423 مسافر گاڑیوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے 414 گاڑیوں کے چالان کئے گئے اور تیز رفتاری پر 400 سے زائد ڈرائیورز کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ سی ٹی او ناصر جاوید رانا نے کہا ہے کہ سڑکوں پر ہلڑبازی کی کسی کو اجازت نہیں ہے، ون ویلنگ اور خطرناک انداز میں ڈرائیونگ کرنے والوں کیخلاف سکواڈز متحرک ہیں۔دریں ثناء ۔جڑانوالہ (نامہ نگار) ٹائر پھٹنے سے موٹر سائیکل ڈیورائیڈ سے ٹکرانے کے باعث سڑک پر گرنے والے نوجوانوں کو دوسری جانب سے آنیوالی ویگن کے ڈرائیور نے کچل ڈالا المناک حادثہ میں2کزن جاں بحق ایک شدید زخمی ہو گیا، حادثہ جڑانوالہ فیصل آباد روڈ پر الشفا انٹرنیشنل ہسپتال کے سامنے پیش آیا۔ تفصیلات کے مطابق عبداللہ پور پل سمندری روڈ فیصل آباد کا رہائشی 18 سالہ طیب ولد فلک شیر اپنے بھائی 12 سالہ ابراہیم ولد فلک شیر اور اپنے کزن 25 سالہ فیضان ولد غلام علی ساکن 14 چک سیدوالا کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر واپس فیصل آباد کی جانب جا رہا تھا کہ جڑانوالہ فیصل آباد روڈ پر واقع الشفا انٹرنیشنل ہسپتال کے سامنے ٹائر پھٹنے سے موٹر سائیکل بے قابو ہو کر ڈیوائیڈر لائن سے ٹکرا گئی جس کے نتیجہ میں موٹر سائیکل سوار تینوں نوجوان سڑک کے دوسری جانب سڑک پر جا گرے جبکہ فیصل آباد سے جڑانوالہ کی جانب آنیوالی ویگن کے ڈرائیور نے سڑک پر گرنے والے نوجوانوں کو کچل ڈالا حادثہ کے نتیجہ میں 18 سالہ طیب اور اس کا کزن فیضان ساکن سیدوالا موقع پر جاں بحق ہو گئے اطلاع پر ریسکیو ٹیم نے جائے حادثہ پر پہنچ کر جاں بحق ہونیوالے دونوں کزنوں کی لاشوں کو پولیس کے سپرد کیا جبکہ زخمی ہونیوالے 12 سالہ ابراہیم ولد فلک شیر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فیصل آباد ہسپتال منتقل کیا جہاں اسکی حالت غیر تسلی بخش بتائی جاتی ہے۔ پولیس نے جاں بحق ہونیوالے دونوں نوجوانوں کی لاشوں کو ضروری کارروائی کے بعد ورثا کے حوالہ کر دیا ہے۔ ٹریفک کے المناک حادثہ میں 2 نوجوانوں کی ہلاکت پر گھروں میں کہرام مچ گیا اور ہر آنکھ اشکبار تھی تاہم پولیس مصروف کارروائی ہے۔




