نئی آٹو پالیسی کیا۔۔۔؟

متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے گاڑیوں کے خریدار ان دنوں ایک بار پھر پرامید ہیں کہ شاید اب ملک میں چھوٹی گاڑیاں ان کی قوت خرید میں آ جائیں گی۔صارفین کی اس امید کی وجہ وفاقی حکومت کی زیر غور وہ نئی آٹو پالیسی ہے جس کا نفاذ اسی ماہ متوقع ہے اور وزارت صنعت و پیداوار کے حکام کا دعویٰ ہے کہ اس پالیسی کے آتے ہی گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی اور ایک عام خریدار کے لیے 20سے 25لاکھ روپے کے درمیان نئی گاڑی حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا۔تاہم موجودہ معاشی حالات میں یہ سوال اپنی جگہموجود ہے کہ حکومت یہ توجہ طلب کمی آخر کس طرح اور کن اقدامات کے ذریعے ممکن بنا سکتی ہے؟ وفاقی حکومت نے نئی آٹو پالیسی تیار کی ہے۔ اس پالیسی میں جہاں دیگر کئی پہلوؤں پر غور کیا گیا ہے وہیں حکومت کا یہ ماننا ہے کہ اس کے نتیجے میں ملک کے اندر چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی واضح کمی لائی جا سکے گی۔اس پالیسی کے تحت صارفین کے لیے قیمتوں کو کم کرنے اور مینوفیکچرنگ لاگت کو نیچے لانے کے لیے حکومت مختلف اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ نئی مجوزہ پالیسی کے تحت حکومت کی جانب سے 850 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں پر عائد مجموعی ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی شرح کو 66 فیصد سے کم کر کے 42 فیصد تک لانے کی تجویز ہے۔ اس کے ساتھ ہی کسٹمز ڈیوٹی کو بھی 50 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کیا جا رہا ہے تاکہ گاڑیوں کی بنیادی قیمت واضح طور پر نیچے آ سکے۔ علاوہ ازیں مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں کی لاگت کو قابو میں رکھنے کے لیے گاڑیوں کے پرزہ جات(سی کے ڈی کٹس)پر عائد امپورٹ ڈیوٹی کو 35 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا طویل مدتی ہدف ملک میں ماحول دوست اور سستی گاڑیوں کو متعارف کروانا ہے۔ اس کے لیے 1000 سی سی یا اس سے کم انجن کیپیسٹی والی چھوٹی الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کو ٹیکس مراعات اور استثنیٰ دینے کا پلان تیار کیا گیا ہے تاکہ ایندھن اور امپورٹڈ پارٹس پر انحصار کم سے کم کیا جا سکے۔یوں حکومت مقامی سطح پر اسمبل ہونے والی 850 سی سی تک کی گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی (50 سے 30 فیصد) اور آٹو پارٹس کی امپورٹ ڈیوٹی میں واضح کمی کر کے مینوفیکچرنگ لاگت کم کرنا چاہتی ہے تاکہ 20 سے 25 لاکھ روپے میں نئی گاڑی کا خواب ممکن ہو سکے۔پاکستان میں کبھی نو سے دس لاکھ روپے کے بجٹ میں دستیاب چھوٹی گاڑیاں جیسے کہ سوزوکی آلٹو اب ٹیکسوں کے بھاری بوجھ اور ڈالر کی اڑان کے باعث 30 لاکھ روپے کے ہندسے کو چھو رہی ہیں۔یہی حال 1000 سی سی کیٹیگری کی دیگر مقبول گاڑیوں کا بھی ہے جہاں سوزوکی ویگن آر اور کلٹس کی قیمتیں اب 44 لاکھ روپے تک جا پہنچی ہیں جبکہ پرنس پرل اور یونائیٹڈ الفا جیسی دیگر چھوٹی ہیچ بیکس بھی 22 سے 24 لاکھ روپے سے کم میں دستیاب نہیں ہیں۔اصل فیصلہ کار اسمبلرز کے ہاتھ میں ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں