واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے، یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب امریکی افواج نے ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ مسلسل 11ویں رات بھی جاری رکھا، جبکہ بحیرہ احمر میں آئل ٹینکروں نے حوثی ملیشیا کی جانب سے انتباہ کے بعد اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔ برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدوں کی قیمت میں ایک ڈالر یعنی 1.1 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت 92.25 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 82 سینٹ یا ایک فیصد اضافے کے ساتھ 85.50 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایک روز قبل ہونے والی تیزی کے بعد سامنے آیا، جب امریکی حملوں اور ایران کی جانب سے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات پر حملوں کے بعد مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی تھی۔ امریکی فوج کے مطابق ایران میں تازہ حملے منگل کی رات امریکا کے وقت کے مطابق شروع کیے گئے، جو ایران میں بدھ کی صبح کے وقت تھے،اس سے کچھ دیر قبل کویتی فوج نے بھی اعلان کیا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی ڈرونز کو روکنے کی کارروائی کی۔ ماہرین کے مطابق جاری کشیدگی نے عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب یمن کی ایران نواز حوثی ملیشیا نے سعودی تیل لے جانے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے اور باب المندب آبنائے میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔بحیرہ احمر کے جنوبی داخلی راستے پر واقع باب المندب آبنائے سعودی خام تیل کی برآمدات کے لیے اہم راستہ بنتا جا رہا ہے، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق سعودی خام تیل لے جانے والے تین آئل ٹینکرز، جو چین اور بھارت جا رہے تھے، منگل کے روز بحیرہ احمر میں واپس مڑ گئے اور یمنی ساحل کے قریب سفر کرنے کے بجائے نہر سویز کی جانب روانہ ہو گئے، یہ فیصلہ حوثی ملیشیا کی جانب سے دی گئی وارننگ کے بعد کیا گیا۔ انرجی ماہرین کے مطابق اگر جہازوں کو بحیرہ احمر میں داخل ہونے اور نکلنے کے لیے نہر سویز کا راستہ اختیار کرنا پڑا تو ایشیا تک تیل کی ترسیل میں وقت اور اخراجات دونوں بڑھ جائیں گے۔ دوسری جانب بحیرہ اسود میں بھی توانائی کی سپلائی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ قازقستان سے تیل حاصل کرنے والے کیسپیئن پائپ لائن کنسورشیم نے اپنے بحیرہ اسود کے ٹرمینل پر حملوں کے بعد سرگرمیاں معطل کر دی ہیں، یہ حملے مبینہ طور پر یوکرینی ڈرونز سے کیے گئے، تاہم یوکرین نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تعطل طویل ہوا تو قازقستان کو خام تیل کی پیداوار کم کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ دریں اثنا، امریکن پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل اور ڈسٹلیٹ ذخائر میں اضافہ ہوا، جبکہ پٹرول کے ذخائر کم ہوئے، مارکیٹ اب امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کی سرکاری رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے۔




