FBRکا کسٹمز رولز2001میں وسیع ترامیم کا مسودہ جاری

اسلام آباد (بیوروچیف) ایف بی آر نے کسٹمز رولز 2001میں وسیع ترامیم کا مسودہ جاری کر دیا، خام سوتی، سوتی دھاگہ ،سرمئی کپڑا ”ای ایف ایس”سکیم سے خارج کرنے کی تجویز دی گئی۔ذرائع ابلاغ کیمطابق کمپریسر ،موٹر سکریپ کی درآمد بھی صرف مخصوص تانبے کے تناسب سے مشروط، انشورنس گارنٹی کو بینک گارنٹی کا متبادل قرار دینے کی تجویز شامل کی گئی۔ انشورنس کمپنی کی گارنٹی کے لیے اے پلس کریڈٹ ریٹنگ کی شرط رکھی گئی، ایکسپورٹ فسیلیٹیشن سکیم کے تحت 10 فیصد نیا خام مال بغیر منظوری حاصل کرنے کی اجازت دی گئی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کسٹمز ٹیرف میں شامل اشیا کے لیے مخصوص رعایات و حدود مقرر کی جا رہی ہیں، نئے مسودہ قوانین پر 5 دن کے اندر اعتراضات یا تجاویز بھی طلب کی گئی ہیں۔نئی ترامیم کے تحت سکریپ کی درآمدات کیلئے شفاف طریقہ کار متعارف کروایا گیا، ای ایف ایس صارفین کے لیے انشورنس یا بینک گارنٹی میں انتخاب کی سہولت متعارف کرائی جائے گی۔موٹر سکریپ میں کم از کم 10 فیصد اور کمپریسر سکریپ میں 8 فیصد تانبہ لازمی قرار، درآمدی قواعد میں تبدیلیاں ملکی صنعت و تجارت کی بہتری کے لیے ضروری قرار، خام روئی، سوتی دھاگے، کپڑے کی کھیپوں کی درآمد 10دن کے اندر مشروط اجا ز ت دی گئی۔دستاویزات کے مطابق غیر معمولی حالات میں ای ایف ایس کیلئے9 ماہ تک توسیع ممکن ہوسکتی ہے، کسٹمز گارنٹی سے متعلق تمام شقوں میں انشورنس گارنٹی شامل کر دی گئی، ترامیم ایف اے ٹی ایف و دیگر عالمی تجارتی تقاضوں سے ہم آہنگ کی جا رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں