62

FBR کو 96ارب روپے ریونیو کے شارٹ فال کا سامنا (اداریہ)

ایف بی آر کو پہلی سہ ماہی کے ہدف میں 96 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا’ آئی ایم ایف ہدف حاصل نہ ہو سکا، حکومت کو سخت اقدامات کرنا ہوں گے پہلی سہ ماہی میں 2652 ارب کے مقابلے میں اب تک 2556 ارب روپے حاصل ہو سکے، رواں مالی سال کے 12970 ارب کے ٹارگٹ کیلئے بہت بڑا کام درپیش’ آئی ایم ایف نے متنبہ کیا تھا ٹیکس ہدف کے حصول میں ناکامی پر اضافی محصولات کے اقدامات پر غور کرنا پڑے گا، ممکنہ ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کے لیے منی بجٹ لانے کا امکان’ عالمی مالیاتی ادارہ نے اسلام آباد کو 7ارب کے توسیعی فنڈ سہولت قرض پروگرام کی منظوری دینے کے موقع پر خبردار کیا تھا اگر پہلی سہ ماہی کے اہداف کو حاصل کرنے میں 2فیصد سے کچھ زیادہ کمی ہوئی تو حکومت کو رواں مالی سال کے دوران اضافی محصولات کے اقدامات کرنے پر غور کرنا پڑے گا حکومت کا سخت نفاذ کے اقدامات کا منصوبہ ہے جس میں بینک اکائونٹ فریز کرنا ممکنہ ٹیکس چوروں کے لیے جائیداد اور گاڑیوں کی خریداری پر پابندی شامل ہے لیکن اس کے لیے قانون سازی میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے لہٰذا ٹیکس قوانین میں ایسی تبدیلیوں کو عملی جامہ پہنانے اور نافذ کرنے کیلئے منی بجٹ کا امکان ہو گا ایف بی آر کو رواں مالی سال کی بقیہ تین سہ ماہی (اکتوبر تا جون) کے دوران 40فیصد کے قریب محصولات میں اضافہ حاصل کرنے کے لیے چیلنجنگ صورتحال کا سامنا ہے یہ موجودہ حکومت کیلئے کوئی آسان کام نہیں ہو گا،’ ایف بی آر کو بڑے ریونیو شارٹ فال کا سامنا کوئی معمولی بات نہیں آئی ایم ایف نے ٹیکس ہدف کیلئے جو ٹائم دیا اس میں ریونیو ہدف حاصل نہ ہونے کے بعد منی بجٹ لانے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے جس سے مہنگائی بڑھ سکتی ہے حکومت گوں مگوں کی کیفیت میں ہے اور یہ سوچ رہی ہے کہ عوام پر مزید بوجھ کیسے ڈالا جائے! پچھلے چند سال سے بڑھتی ہوئی مالی مشکلات پر قابو پانے کیلئے حکومت نے ملکی معیشت کا پورا ڈھانچہ بدلنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر عملدرآمد کیلئے جلد ہی صوبوں کے ساتھ قومی مالیاتی معاہدے پر دستخط ہو جائینگے، وزیرخزانہ اور چیئرمین ایف بی آر کے مطابق صوبے زراعت پر ٹیکس لگائیں گے، محصولات میں اضافہ کیا جائے گا اور صوبائی ٹیکسوں میں یکسانیت لائی جائے گی پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال کیا جائے جس سے مہنگائی میں کمی واقع ہو گی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے سرکاری اداروں میں اصلاحات کی جا رہی ہیں وزارتوں میں رائٹ سائزنگ کی جا رہی ہے دو وزارتیں ختم کی جا رہی ہیں تاکہ قومی خزانے پر سے بوجھ کم کیا جا سکے وزیر خزانہ کے مطابق امسال پچھلے سال کے مقابلہ میں داخل کئے جانے والے گوشواروں کی تعداد دو گنا ہ گئی ہے جبکہ نان فائلرز کی تعداد 3لاکھ سے بڑھ کر 7لاکھ 23ہزار ہو گئی ہے ایک ہزار 300 ارب روپے کا ٹیکس چوری کیا جاتا تھا اصلاحات کے ذریعے ٹیکس ریکوری میں 7ہزار روپے کا اضافہ ممکن ہے اس وقت عدالتوں میں 2ہزار ایک سو ارب روپے کے کیس زیرالتواء ہیں اس صورتحال کے پیش نظر ایپلیٹ ٹربیونل نظام تبدیل کیا جا رہا ہے وفاقی وزیر خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر نے پریس کانفرنس میں جن اقدامات کا اعلان کیا ہے اور انہیں معاشی ضرورت قرار دیا ہے ان پر عملدرآمد وقت کا تقاضا ہے ماضی میں اس حوالے سے جو غلطیاں ہوئیں ان کی اصلاح ہی کے ذریعے معیشت کو دوبارہ پٹڑی پر ڈالا جا سکتا ہے ایف بی آر کو ٹیکس اہداف کے حصول کیلئے دن رات ایک کرنا ہو گا محکمہ میں بدعنوانی کا خاتمہ کرنا ہو گا سمگلنگ پر قابو پانے کیلئے سخت اقدامات ناگزیر ہیں اگر ایف بی آر افسران اور عملہ دیانتداری ذمہ داری سے اپنے فرائض پر توجہ دے تو ایف بی آر اپنے اہداف حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہو سکتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس نادہندگان معیشت کی بحالی کیلئے حکومت کا ساتھ دیں کاروباری ط بقہ بھی وطن عزیز کی ترقی ومعاشی استحکام کیلئے ٹیکس دیں قابل ٹیکس آمدنیو الے طبقے کو بھی ٹیکس دینا چاہیے تاکہ ایف بی آر کے اہداف کے حصول میں آسانی ہو اور حکومت عالمی مالیاتی ادارے کے سامنے بے بس نظر نہ آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں