53

FBR کے تمام منصوبوں کی تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کی ہدایت (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آر کے تمام منصوبوں کی تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کرانے کی ہدایت کی ہے گزشتہ روز ایف بی آر کے امور سے متعلق اہم اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن حکومت کی اہم معاشی اصلاحات میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے وزیراعظم نے FBR کے انفورسمنٹ کے نظام کو مزید فعال بنانے کے حوالے سے جامع حکمت عملی تربیت دینے کی ہدایت کی انہوں نے ایف بی آر ٹرانسفارمیشن پلان کی تعریف کی اور ہدایت کہ اچھے ٹیکس دہندگان کو دعوت دیں اور ایف بی آر ٹرانسفارمیشن پلان پر ان سے مشاورت کی جائے اور تجاویز لی جائیں اور ان تجاویز پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ سرکاری محکموں کے ساتھ مل کر تفصیلی تبدیلیوں کی منظوری حاصل کی جائے وزیراعظم نے کہا کہ نجی شعبہ کا فروغ حکومتی ترجیحات میں شامل ہے فعال اور خوشحال نجی شعبہ ملکی معیشت کے لیے انتہائی صروری ہے وزیراعظم نے اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات تیز تر کرنے کی بھی ہدایت کی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ FBR پلان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال’ ٹیکس وصولی کو بہتر بنانے کے لیے ایمانداری کے ساتھ کارکردگی دکھانے والے افسران اور عملے کی حوصلہ افزائی اور ٹیکس قوانین کے نفاذ کو بہتر بنانے کے حوالے سے جامع حکمت عملی شامل ہے یہ پروگرام ایف بی آر کے افسران وماہرین نے چیئرمین ایف بی آر کے ساتھ مل کر گزشتہ 40 روز میں مرتب کیا ہے اس پروگرام سے معاشی ترقی کا سفر روکے بغیر بہتر انداز میں زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا جا سکے گا وقت پر پورا ٹیکس ادا نہ کرنے والے اور فراڈ میں شامل افراد کیخلاف سخت اقدامات اور لین دین پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں اجلاس نے ایف بی آر کے ٹیکس وصولی کے انتظام کے حوالے سے ایف بی آر کے ہوم گرون ٹرانسفارمیشن پلان کی اصولی منظوری دے دی یہ پلان وزیراعظم کی ہدایت پر گزشتہ 25برس ٹیکس وصولی کا تفصیلی تجزیہ کے بعد ترتیب دیا گیا ہے اسمگلنگ کو روکنے کیلئے ایف ڈبلیو کی معاونت سے نئی چیک پوسٹوں کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا،، وزیراعظم کی ایف بی آر کے تمام منصوبوں کا تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کرانے کی ہدایت خوش آئند ہے اس اقدام سے گزشتہ 25برسوں کے دوران محکمہ ایف بی آر نے کون کون سے تیر مارے اور کہاں کہاں گھپلے کئے سب سامنے آ جائے گا وفاقی ادارہ ایف بی آر میں گزشتہ دو دہائیوں سے اصلاحات کی بازگشت سنائی دیتی رہی ہے مگر اس محکمہ میں قابل ذکر اصلاحات عمل میں نہیں لائی جا سکیں محکمہ میں موجود کرپٹ افسران وعملہ کا کچھ بگاڑا نہیں جا سکا ابھی تک سب اسی انداز میں قومی خزانہ سے کھلواڑ کر رہے ہیں صنعتکار’ برآمدکنندگان’ چھوٹے بڑے ٹریڈرز کوئی بھی اس محکمہ سے خوش نظر نہیں آ رہا بدقسمتی سے محکمہ کے افسران ہی کاروباری افراد کو ایف بی آر میں ٹیکس کے حوالے سے مشورے دیکر قومی خزانے کو بھرنے کے بجائے اپنی جیبیں بھرنے اور ٹیکس بچانے کی ترغیب دیتے ہیں جب محاصل میں کمی پر حکومت جواب مانگتی ہے تو محکمہ کے افسران کاروباری افراد تاجروں’ صعنتکاروں پر گھیرا تنگ کر دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک ایف بی آر اور ٹیکس دہندگان میں کبھی تعلقات خوشگوار نہیں رہے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تھرڈ پارٹی کی جانب سے آڈٹ کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا اس محکمہ کے افسران کے بچے بیرون ممالک میں زیرتعلیم ہیں گاڑیوں اور دیگر مراعات کے مزے ان کے بچے لوٹتے ہیں ٹیکس جمع کرانے والوں کو کوئی سہولیات نہیں مگر محکمہ ایف بی آر کے نائب قاصد تک اتنے خوشحال ہیں کہ بڑی بڑی جائیدادیں انہوں نے بنا رکھی ہیں جبکہ دیگر مراعات حاصل کرنا الگ ہے موجودہ حکومت نے ایف بی آر سمیت دیگر محکموں میں اصلاحات کا بیڑہ اٹھایا ہے جو خوش کن اقدام ہے تاہم سب سے اہم جس محکمہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے وہ محکمہ ایف بی آر ہے حکومت کو اس محکمہ میں موجود ان افسران اور عملہ پر ہاتھ ڈالنا ہو گا جو اس محکمہ کو لوٹ رہے ہیں اور حکومت کیلئے محاصل اکٹھا کرنے کے بجائے اپنی خوشحالی کی طرف توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں اگر تھرڈ پارٹی میں شامل افراد دیانتداری کے ساتھ آڈٹ کریں تو یقینا گھپلے سامنے ضرور آئیں گے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ایف بی آر کا قبلہ درست کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں تاکہ اس محکمہ کو ملک وقوم کی ترقی کیلئے صحیح سمت میں گامزن کیا جا سکے اور فائدہ اٹھایا جا سکے ویسے بھی وزیراعظم کی خواہش ہے کہ آئندہ اسے آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے تو اس حوالے سے محاصل اکٹھا کرنے والے وفاقی ادارے ایف بی آر افسران اور عملہ کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں تاخیر نہ کی جائے اچھی کارکردگی والے افسران کو انعامات اور بڑی کارکردگی والوں کو محکمہ سے نکال باہر کیا جائے اسی میں اس محکمہ کی بھلائی کا راز مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں