IMFکی پاکستان پر مزید23کڑی شرائط عائد

اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان کے لیے اقتصادی چیلنج میں ایک نیا موڑ آیا ہے، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت سے قرض کی نئی قسط کے لیے23شرائط پیش کر دی ہیں۔ ان شرائط میں عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کی تجاویز شامل ہیںآئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق حکومت کو گندم کی امدادی قیمت پر پابندی لگانے اور ہائی ویلیو سرجری آئٹمز پر سیلز ٹیکس نافذ کرنے کا کہا گیا ہے، جس سے صحت اور زراعت کے شعبے میں قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور سرکاری اداروں کے قوانین میں تبدیلی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔حکومت کو 2026تک سرکاری اداروں میں اصلاحات مکمل کرنے کی مہلت دی گئی ہے، اور کفالت پروگرام میں مستحق افراد کی تعداد بڑھا کر 1کروڑ 2لاکھ تک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان اقدامات سے گردشی قرضوں میں کمی لانے کا بھی منصوبہ ہے۔آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کی تجویز دی ہے، جن میں سب سے اہم عوامی سطح پر اضافی ٹیکس عائد کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق، حکومت مختلف اشیا پر 18فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، کھاد اور زرعی ادویات پر 5فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جائے گی، جس سے کسانوں کو مشکلات پیش آئیں گی۔پاکستانی حکام کو گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے پر پابندی لگانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے، جس کا اثر زراعت کے شعبے پر پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی ہائی ویلیو سرجری آئٹمز کو سیلز ٹیکس کے دائرے میں لانے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے صحت کے شعبے میں بھی اضافی اخراجات آئیں گے۔ آئی ایم ایف نے حکومت کو سرکاری ملکیتی اداروں کے قوانین میں تبدیلی کرنے کی مہلت دیتے ہوئے اگست 2026تک اس عمل کو مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ توانائی کے شعبے میں بھی اصلاحات کی تجویز دی گئی ہے، جن میں ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور لاگت میں کمی کے اقدامات شامل ہیں۔یہ اقدامات پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، مگر ان کا براہ راست اثر عوام کی روزمرہ زندگی پر پڑے گا، کیونکہ نئے ٹیکسز اور قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں عوام کے لیے زندگی گزارنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں