22

KPکے محکمہ معدنیات میں16ارب94کروڑ کی بے قاعدگیوں کا انکشاف

پشاور(بیورو چیف)خیبر پختونخوا کے محکمہ معدنیات میں 16ارب 94کروڑ روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔محکمہ معدنیات کی سال 2022اور 2023کی رپورٹ کے مطابق غیر قانونی کان کنی سے صوبے کو 8ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا جبکہ محکمہ نادہندہ قرار دئے گئے ٹھیکہ داروں سے بھی 4 ارب 31کروڑ روپے وصول نہ کرسکا۔ آڈیٹر نے اربوں روپے کے بے قاعدگی کے ذمہ داروں کیخلاف انکوائری کی سفارش کردی۔ آڈٹ رپو ر ٹ کے مطابق غیر قانونی مائنگ اور اس مد میں بقایاجات کی عدم وصولی پر صوبائی خزانے کو 3 ارب 8کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا، خیبر پختونخوا میں مختلف اضلاع میں چیک پوسٹوں اور انسپکٹر کے باوجود غیر قانونی مائننگ کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی خزانے کو 1ارب 83 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔صوبے میں شاہراہوں اور سمال ڈیم کی تعمیر ،بجری ،ریت کی سپلائی کیلئے غیر قانونی مائنگ سے 3ارب 7کروڑ روپے کا نقصان ہوا ، معدنیات پر ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 54کروڑ 72لاکھ روپے کی عدم وصولی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔صوبے کے مختلف اضلاع میں کوئلہ ، باکسائیٹ، لائم سٹون اور سوپ سٹون کانوں کے لیز ہولڈر سے بقایا جات کے مد میں 81کروڑ روپے سے زائد وصولی نہیں ہوئی۔ جائنٹ وینچر کے دوران ایڈوانس خالص منافع جمع نہ کرانے پر محکمے کو 58 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچایا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں