KPKکے سکیورٹی اکاؤنٹس میں8ارب کے گھپلے

پشاور (بیوروچیف) خیبرپختونخوا کے سکیورٹی ڈپازٹ اکائونٹس میں آٹھ ارب روپے سے زائد کی خورد برد اور مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔یہ انکشاف 2007ء سے2024ء تک صوبے کے اٹھارہ اضلاع کے ڈپازٹ اکائونٹس کی جانچ پڑتال کے دوران سامنے آیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹھیکیداروں کو سیکیورٹی اکائونٹس سے پانچ کروڑ 53 لاکھ روپے کی بوگس ادائیگیاں کی گئیں۔اسی طرح سیکیورٹی ہیڈ سے 10 کروڑ 82 لاکھ روپے کی مشکوک ادائیگیوں کا بھی پتہ چلا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ان ادائیگیوں کی نوعیت اور قانونی حیثیت کا مزید جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 53 کروڑ 54 لاکھ روپے کا ترقیاتی فنڈ غیر قانونی طور پر منتقل کیا گیا۔اس کے علاوہ اکائونٹس کے ڈیجیٹل اور مینوئل ریکارڈ میں چھ ارب 30 کروڑ روپے کا واضح فرق پایا گیا، جس نے مالی نگرانی کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 25 کروڑ 96 لاکھ روپے کی پنشن ادائیگیاں بھی غیر قانونی طور پر کی گئیں۔مزید برآں پشاور، باجوڑ سمیت پانچ اضلاع میں ایک ارب 23 کروڑ روپے کے ریکارڈ کو مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق ان بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے بعد متعلقہ حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے کارروائی متوقع ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے گا اور اگر کسی کی غفلت یا بدعنوانی ثابت ہوئی تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں