237

PCOSکی مینجمنٹ پر اشواگندھا (جڑی بوٹی) کے فوائد ……

تحریر… بینش سرور خان
پی سی او ایس کیا ہے؟ پی سی او ایس کا مطلب ھارمون کی خرابی اور اوریز میں بہت زیادہ سسٹس کا پیدا ہونا ہے۔ یہ دماغ اور بیضہ دانی میں ہارمونز کے توازن کو کم کرتا ھے۔ اس عدم توازن کی وجہ نامعلوم ہے۔ عام طور پر اووری مادہ ہارمونز بناتی ہے جسے ایسٹروجن اور پروگیسٹیرون کہتے ھیںاوریز اینڈوجیینز بھی بناتی ھیں جو کہ مردانہ ھارمون ھوتے ھیں۔ پی سی او ایس سے متاثرہ خواتین میں اینڈ وجیینزہارمون زیادہ مقدار میں بنتے ہیں۔ پی سی او ایس میں اووریز بہت زیادہ ھارمون پیدا کرتی ھیں۔ جس سے جسم میں ھارمونز کا توازن خراب ھو جاتا ھے جو کہ جسم پر اثر انداز ھوتے ھیں۔ اسکے اثرات ھلکے یا پھر بہت تیز بھی ھو سکتے ھیں۔ اووریز سیال مادے سے بھرے ھوئے تھیلے پیداکرتی ھیں جن میں انڈے ھوتے ھیں ان تھیلیوں کو فولیکلز یا سسٹس کہتے ھیں۔ ھر مہینے جب عورتوں کا سائکل شروع ھوتا ھے، پکے ھوئے فولیکل پھٹ جا تے ھیں اور انڈے باھر نکل جاتے ھیں۔ اس عمل کو اوولویشن کہتے ھیںجن خواتین کو پی سی او ایس ھوتا ھے ان کا دماغ ھارمون کا پیغام اووری کو نہیں بھیجتا کہ تیار انڈے نکال دے۔ اس لئے اوولیوشن کبھی ھوتی ھے اور کبھی نیں ھوتی۔ فولیکلز پھٹنے کی بجائے بڑے ھو جاتے ھیں اور اووریز میں سسٹس کی شکل اختیار کر لیتے ھیں۔ پی سی اوایس کی علامات: پی سی اوایس کی علامات اس وقت شروع ھوتی ھیں جب لڑکیوں کو پہلی بار پیرییڈ شروع ھوتے ھیں جسکی وجہ اینڈرو جینز کی زیادتی ھوتی ھے لیکن جن خواتین کو پی سی او ایس ھوتا ھے انہیں پیریڈ کم یا بلکل نیں ھوتے۔ پی سی اوایس کی ممکنہ علامات یہ ھو سکتی ھیں: چہرے اور جسم پر غیر ضروری بال، وزن کا بڑھ نا، تھکاوٹ، چہرے پردانے، کیل اور مہاسے، ایسی اووریز جن میں جن میں سسٹس زیادہ ہو جاتی ہیں ، خواتین میں حاملہ ہونے کی روکاوٹ، موڈ میں تبدیلی، خون میں چربی کا بڑھنا، انسولین یا شوگر کا بڑھنا، خون میں اینڈروجینز کا بڑھنا، اووری کا کینسر، جلد کا سیاہ ہونا۔ لیکن تمام خواتین کو یہ شکایات نہیں ہوتیں۔ پی سی او ایس کی تشخیص مریض کی ھسٹری اور خون کے ٹیسٹ سے ہو تی ہے ، پی سی او ایس کے لئے کوئی ایک ٹیسٹ نہیں ھوتا۔ اس کو جانچنے کے لئے ڈاکٹر کچھ سوالات کرتے ھیں جو کہ مندرجہ ذیل ھیں: پیریڈ سے متعلق بالوں اور جلد کے مسائل ، وزن کا بڑھنا۔ ماضی میں آپکی صحت کے متعلق سوالات: ڈاکٹر اور نرس آپکا وزن، قد اور خون کا دباو ماپیں گے۔ وہ خون کا نمونہ بھی لیں گے۔ آپکاخون میں انسولین، ھارمون اور گلوکوز ٹیسٹ کیا جائے گا،ھو سکتا ھے ڈاکٹر اووری کا الٹرا سائونڈ سکین بھی کرے جس سے سسٹ کا پتہ چلے گا۔پی سی او ایس کو قابو کیا جا سکتا ھے اور جسم پر اسکے اثرات کو کنٹرول کر سکتے ھیں، پی سی او ایس کا کوئی مستقل علاج نھیں لیکن پھر بھی علاج سے اسے قابو میں کیا جا سکتا ھے۔ پی سی او ایس کا علاج دو وجوھات کی بنیاد پر ضروری ہے۔مستقبل میں صحت: اگر پی سی او ایس کا علاج نہ کیا جائے تو صحت کے بہت سے مسائل پیدا ھو جاتے ہیں۔ یہ صحت کے مسائل مندرجہ ذیل ہیں۔دل کی بیماری، موٹاپا، بچے دانی کا کینسر، شوگر، حاملہ ھونے میں رکاوٹ، پی سی او ایس کن خواتین میں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے :ـ وہ خواتین جن کی ماں یا بہن کو پی سی او ایس یا ٹائپ 2 ذیابیطس ہے۔ مو ٹاپے کا شکار خواتین میںہاشیماٹوز کے مریض، تولیدی عمر کی خواتین۔ اشواگندھا کے پی سی او ایس کی مینجمنٹ میں فوائد :ـ 1.بلڈ شوگر لیول کو کم کرتا ہے:ـ پی سی اوایس والی خواتین میں انسولین کے خلاف مزاحمت ہوتی ہے جو انسولین کو موثر طریقے سے جواب دینے کی جسم کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ انسولین کی کمزور حساسیت کی وجہ سے جسم کیاندر خون میں گلوکوز کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے انسولین کی زیادہ مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسولین کی اعلی سطح اینڈروجن کی اضافی پیداوار کو بھی متحرک کرسکتی ہے۔ مزید برآں، اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ ٹائپ 2 ذیابیطس اور دیگر صحت کی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ایک جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ شوگر کے شکار یا اس کے بغیر لوگوں میں اشواگندھا کا بلڈ شوگر کم کرنے کا اثر ہوتا ہے۔ اشواگندھا جڑ کا عرق انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے اور جسم کے خلیے کے ذریعے گلوکوز کو جذب کرنے میں مؤثرثابت ہوا ہے۔ 2.تناؤ اور اضطراب کا علاج کرتا ہے:۔اشواگندھا روایتی طور پر نہ صرف آیوروید میں بلکہ بہت سی دوسری قدیم ثقافتوں میں تناؤ اور اضطراب کی دوا کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ بہت سارے مطالعات اور جائزے کے کاغذات ہیں جو اشواگندھا کی اس خاصیت کو ثابت کرتے ہیں۔پی سی او ایس کی وجہ سے پیدا ہونے والا تناؤ اور ڈپریشن سب سے شدید علامت ہے، کیونکہ یہ فرد کی ذہنی حالت کو متاثر کرتا ہے۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اشواگندھا کی جڑ کا عرق دماغ کی طرف کیمیائی سگنلز کے راستے کو منظم کرتا ہے، یہ تناؤ کے سگنل کے راستے کو بھی روکتا ہے۔ 3. کولیسٹرول کی سطح اور موٹاپے کو کم کرتا ہے:ـ تناؤ اور موٹاپا ایک دوسرے پر بہت منحصر ہیں۔ تناؤ (کورٹیسول تناؤ) کے ردعمل کو متحرک کرتا ہے جو فعال گلوکوز کی پیداوار کو اکساتا ہے۔ یہ بدلے میں بھوک کا سبب بنتا ہے، جس کے نتیجے میں ضرورت سے زیادہ خوراک ہوتی ہے۔ پی سی او ایس مو ٹاپا اور ہائی کولیسٹرول والی خواتین کو متاثر کرتا ہیں، کیونکہ یہ دل کی مختلف شدید بیماریوں کے لیے راستے ہموار کرتا ہے۔لہذا اشواگندھا تناؤ کا علاج کرتی ہے جو بالآخر موٹاپے کو کم کرتی ہے۔ 4. تھائیرائیڈ میں مدد کرتا ہے:ـ تھائرائڈ کی کم سطح جنسی ہارمون بائنڈنگ گلوبلن کی سطح کو کم کرنے کا نتیجہ ہے پی سی او ایس زیادہ تر تھائرائڈ کی سطح میں کمی سے منسلک ہوتا ہے۔یہ معلوم ہے کہ اشواگندھا جنسی ہارمونز کو بڑھاتی ہے۔ لیکن پی سی او ایس والی خواتین میں پہلے سے ہی اینڈروجن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے صحت کے محققین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر مریض ہاشیموٹو کے ہائپوتھائرائڈزم (ہاشیموٹو کی بیماری ایک آٹوایمون ڈس آرڈر ہے جو تھائرائڈ گلینڈ کو متاثر کرتا ہے) میں مبتلا ہے تو اشواگندھا کا استعمال نہ کریں۔ تاہم، اگر تھائرائڈ کی کم سطح کی وجہ مختلف ہے تو اشواگندھا تناؤ، افسردگی، اضطراب اور انسولین کے خلاف مزاحمت کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔ 5. سوزش کو ٹھیک کرتا ہے:ـ پی سی او ایس والی خواتین بھی سوزش کا شکار ہوتی ہیں، اشواگندھا جسم میں سوزش کی کیفیت سے لڑنے میں مدد کرتی ہے۔ ایک جائزہ پیپر میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اشواگندھا قدرتی قاتل ٹی سیل تیار کرتی ہے جو سوزش کے خلاف لڑ سکتی ہےـ 6: ٹیسٹوسٹیرون کی سطح :ـ اینڈروجن، جیسے ٹیسٹوسٹیرون، اکثر پی سی اوایس والے لوگوں میں بلند ہوتے ہیں۔ ہائی ٹیسٹوسٹیرون پی سی او ایس کی عام علامات جیسے کہ غیر مطلوبہ بالوں کی نشوونما، بالوں کا گرنا، مہاسوں اور ماہواری کی بے قاعدگی میں حصہ ڈال سکتا ہے۔مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ اشواگندھا مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کو بڑھا سکتی ہے۔ اگرچہ اس نظریہ کا خواتین میں تجربہ نہیں کیا گیا ہے، خاص طور پر پی سی او ایس والی خواتین میں نہیں، یہ شبہ ہے کہ اشواگندھا خواتین میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کو بھی بڑھا سکتی ہے۔اگر آپ کے جسم میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح بلند ہو جاتی ہے، تو اشوگندھا سے پرہیز کرنا بہتر ہو سکتا ہے۔ اشواگندھا کا استعمال کن خواتین کو نہیں کرنا چاہیے :ـ حاملہ خواتین کے لیے اشواگندھا کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ دودھ پلانے والی مائیںخوراک:ـپی سی او ایس کیپسول کے لیے اشواگندھا کی معیاری خوراک 450 سے 500 ملی گرام (mg) روزانہ ہے، لیکن PCOS کی موجودہ شکایات کے مطابق خوراک مختلف ہو سکتی ہے۔خوراک استعمال کے لیے دستیاب فارم کی قسم پر بھی منحصر ہے، جیسے پاؤڈر، کیپسول، یا مائع شکل۔ تاہم، نچوڑ پتیوں یا جڑوں کے پاؤڈر سے زیادہ موثر ہے۔اشواگندھا کا استعمال کرنے سے پہلے اپنے ہیلتھ کیئر فراہم کنندہ سے مشورہ کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔اشواگندھا کا استعمال کرنے سے پہلے اپنے ہیلتھ کیئر فراہم کنندہ سے مشورہ کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں