69

PIA کی نجکاری آخری مراحل میں (اداریہ)

سیکرٹری نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کیلئے بولی یکم اکتوبر 2024ء کو ہو گی، ڈرافٹ سرمایہ کاروں کو دیدیا گیا بولی دہندگان 27ستمبر تک جمع کرائیں گے کابینہ حتمی منظوری دے گی خریداروں کو 70 ارب روپے کی سرمایہ کاری اور 3سال میں جہازوں کی تعداد 45 کرنا ہو گی ملازمین کے حقوق اور پنشن محفوظ رہیں گے ملازمین کی تنخواہوں میں اور الائونسز میں کٹوتی نہیں ہونی چاہیے سیکرٹری نجکاری کمیشن کی جانب سے بتایا گیا کہ پی آئی اے کا عملہ دو سے تین سال تک رکھا جائے گا اور روٹس بحال رہیں گے معاہدے کی خلاف ورزی پر خریدار کمپنی کے خلاف کارروائی ہو سکے گی پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن 35ارب روپے بنتی ہے، پہلے سے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن حکومت ادا کرے گی 800 ارب روپے کے قرض میں سے 600 ارب روپے اپنے ذمہ لے لئے ہیں مجموعی طور پر اب پی آئی اے پر کوئی قرض نہیں ہے اب سرمایہ کاروں کے لیے اس ائیرلائن کو منافع بخش بنانا آسان ہو گا سیکرٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ پی آئی اے کو نجکاری کے بعد تربیت یافتہ عملہ رکھنا ہو گا پی آئی اے کے تربیت یافتہ عملہ کو برقرار رکھا جائے گا اس وقت پی آئی اے کے پاس 320 پائلٹ ہیں نئے سرمایہ کاروں کو کین کریو اور آئی ٹی کا عملہ رکھنا پڑے گا،، کئی برسوں سے خسارے کا شکار قومی فضائی کمپنی کی نجکاری کی بازگشت سنائی دے رہی تھی بالآخر اس سفید ہاتھی سے چھٹکارا حاصل کرنے کا وقت ان پہنچا ہے اور پی آئی اے کی نجکاری کے لیے یکم اکتوبر کو بولی کا اعلان کیا گیا ہے اس حوالے سے سیکرٹری نجکاری کمیشن نے بتایا ہے کہ ڈرافٹ سرمایہ کاروں کو دے دیا گیا ہے پی آئی اے کو خریدنے والوں کو 70ارب روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ 3سال کے اندر قومی فضائی کمپنی کے جہازوں کی تعداد 45کرنا ہو گا جبکہ ملازمین کے حقوق’ پنشن محفوظ رہیں گے سیکرٹری نجکاری کمیشن نے خریداروں کو بتایا گیا کہ قومی فضائی کمپنی (پی آئی اے) کے ذمہ قرضہ جات حکومت نے اپنے ذمہ لیکر ائیرلائن کے خریداروں کیلئے آسانی پیدا کر دی ہے جو خوش آئند ہے، پی آئی اے جو کبھی منافع بخش اداروں میں سے ایک تھا اس ادارے میں سیاسی شخصیات نے اپنے ورکرز کو نوازنے کیلئے بڑے پیمانے پر بھرتیاں کر کے اس ادارے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں تھیں اور یہ ادارہ اپنے ملازمین کا بوجھ سہارنے کے قابل نہیں رہا تھا اور خسارے کا شکار ہو کر حکومت کیلئے بوجھ بن چکا تھا جس کی نجکاری کیلئے حکومت کئی برسوں سے کوشاں تھی مگر کامیابی نہیں ہو رہی تھی تاہم اتحادی حکومت نے نجکاری کے عمل کو بہت سنجیدہ لیا اور پی آئی اے کی نجکاری کے مراحل کامیابی سے طے کئے اور اب اس ادارے کی پرائیویٹائزیشن کا آخری مرحلہ آن پہنچا ہے امید ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کا یہ مرحلہ بھی کامیاب ہو گا اور خسارے میں چلنے والے اس قومی ادارے کو نجی شعبہ کے سپرد کر کے حکومت کر ہر سال اربوں روپے جو اس ادارہ کیلئے مختص کرنا پڑتے تھے وہ بچ جائیں گے خدا کرے اس ادارہ کی نجکاری کے بعد خسارے میں چلنے والے دیگر قومی اداروں کی نجکاری کے مراحل بھی آسانی کے ساتھ طے کر لئے جائیں تاکہ حکومت کو گردشی قرضہ کے ساتھ ساتھ بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں بھی آسانی حاصل ہو سکے اتحادی حکومت معاشی بحران پر قابو پانے کیلئے جو کوششیں کر رہی ہے اس کے ثمرات تو اس وقت ہی حاصل ہو سکتے ہیں جب نجکاری کے حوالے سے پیش کئے جانے والے قومی اداروں کی نجکاری کا عمل خوش اسلوبی اور احسن طریقہ سے شفاف انداز میں مکمل ہو جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں