PTIقیادت نے ہتھیاد ڈال دئیے،بانی کے جارحانہ بیانیے سے علیحدگی اختیار کرلی

اسلام آباد (بیوروچیف) مسلح افواج کے ترجمان کی نیوز کانفرنس کے چوبیس گھنٹے بعد تحریک انصاف کی قیادت نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں اور اپنے بانی کے ملک دشمن بیانئے سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔ تحریک انصاف نے نیوز کانفرنس کے بعد اپنے باضابطہ ردعمل میں بانی پر عائد کردہ الزامات کی تردید یا وضاحت پیش کرنے کی بجائے درگزر سے کام لینے کی استدعا کی تھی تاہم ہفتے کی سہ پہر تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ اعلان کرکے مکمل پسپائی اختیار کرلی کہ ہم اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دینے جارہے، فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس سے بہت افسوس ہوا، جو الفاظ استعمال کئے گئے نامناسب تھے، ہم یہ واضح کرنا چاہ رہے ہیں کہ شاید لوگ لڑوانا چاہ رہے ہیں، اپنی انا کو جانے دینا ہوگا۔ سیاسی مبصرین نے بتایا ہے کہ مسلح افواج کے ترجمان کی نیوز کانفرنس کے بعد تحریک انصاف کی قیادت اور پارلیمنٹ کے ارکان واضح طور پر تین حصوں میں تقسیم ہوگئے ہیں ان میں سے ایک تحریک انصاف کے بانی کے نقطہ نگاہ سے فاصلہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔دریں اثناء ۔اسلام آباد(بیوروچیف) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی حلقوں میں کچھ سینئر رہنماوں نے تسلیم کیا ہے کہ عمران خان کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مسلسل فوجی قیادت کے خلاف تضحیک آمیز زبان کے استعمال نے پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے آنے والے سخت ردعمل میں اہم کردار ادا کیا۔پارٹی ذرائع کے مطابق یہ معاملہ پی ٹی آئی کی قیادت میں زیرِ بحث آیا جہاں بعض رہنماوں نے اعتراف کیا کہ عمران خان نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں بارہا اعلی فوجی قیادت کے لیے انتہائی توہین آمیز اور تضحیک آمیز الفاظ استعمال کیے۔ایک سینئر پی ٹی آئی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاجب ہم مسلسل اور بار بار یہ سب کریں گے، تو دوسری طرف سے کیا توقع رکھیں گے؟انہوں نے مزید کہا کہ اگر گنتی کی جائے تو گزشتہ دو برسوں میں عمران خان کے ایکس اکائونٹ سے شاید سو سے زیادہ بار فوجی قیادت کے خلاف سخت زبان استعمال کی گئی۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کی مشکل یہ ہے کہ اگرچہ کئی رہنما پارٹی کے قید بانی چیئرمین سے مختلف امور پر اختلاف رکھتے ہیں، جن میں فوجی قیادت پر ان کے مستقل ذاتی حملے بھی شامل ہیں لیکن عملی طور پر ان کی کوئی رائے فیصلوں یا پیغام رسانی پر اثرانداز نہیں ہوتی۔ایک اندرونی ذریعے کے مطابق پارٹی کا بیانیہ اب بھی اڈیالہ جیل سے طے ہونے والے انداز کو ہی منعکس کرتا ہے، چاہے اندرونِ خانہ کتنی ہی تحفظات کیوں نہ ہوں۔بمشکل ہی کوئی سینئر پی ٹی آئی رہنما بانی چیئرمین کی ایسی سوشل میڈیا پوسٹس کو دوبارہ شیئر کرتا ہے یا لائک کرتا ہے۔ زیادہ تر پی ٹی آئی رہنما پہلے کی طرح معاملات کو ٹھنڈا کرنا چاہتے ہیں مگر نہ تو عمران خان ان کی بات سنتے ہیں اور نہ ہی قیادت کے پاس پارٹی کے سوشل میڈیا یا بانی چیئرمین کے اکائونٹس پر کوئی اختیار ہے۔گزشتہ روز آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پی ٹی آئی بانی پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیںذہنی مریض اورسنگین قومی سلامتی کا خطرہ قرار دیا۔پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے اگرچہ عمران خان کا نام نہیں لیا لیکن ان کی تنقید کا ہدف واضح طور پر جیل میں موجود رہنما اور ان کی پارٹی تھی۔فوج کے ترجمان کے مطابق عمران خان اور پی ٹی آئی کا بیانیہ ریاست مخالف اور قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ بنتا جا رہا ہے۔انہوں نے دو ٹوک انداز میں پی ٹی آئی کے بانی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کا بیانیہ ایسے عالمی میڈیا میں پذیرائی پا رہا ہے جن کے ممالک کی افواج ماضی میں پاک فوج کے ہاتھوں شکست کھا چکی ہیں۔ بیانات کا یہ تبادلہ فوج اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان اب تک کی براہِ راست ترین کشیدگیوں میں سے ایک ہے جو دونوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری اور پی ٹی آئی کے اندر اس بات پر جاری اندرونی کشمکش کو نمایاں کرتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے پارٹی کو کیا حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں