1

PTIمیں شدید اختلافات،سینئر رہنما قیادت سے ناراض

اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان تحریک انصاف اس وقت اندرونی اختلافات کا شکار دکھائی دیتی ہے، پارٹی کے متعدد سینئر رہنمائوں نے قیادت اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر کھل کر ناراضی کا اظہار کیا ہے، آئے روز سامنے آنے والے متضاد بیانات، شوکاز نوٹسز اور آڈیو لیکس نے پارٹی صفوں میں انتشار کی صورتحال کو نمایاں کردیا ہے۔پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر، لطیف کھوسہ، رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی، سینیٹر مشعال یوسفزئی اور سینیٹر زرقا سہروردی سمیت دیگر کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ پارٹی قیادت سے ناراض ہیں۔گزشتہ روز پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ وہ آئندہ آزاد حیثیت میں اسمبلی میں بیٹھنے کے لیے اسپیکر سے رجوع کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں فیصلے چند افراد کرتے ہیں جبکہ دیگر اراکین کو ایوان میں اظہارِ خیال کا موقع تک نہیں دیا جاتا۔جنید اکبر کی مبینہ آڈیو لیک میں انہوں نے واضح کیاکہ وہ اب نہ پارٹی چیف وہپ کو تسلیم کریں گے اور نہ ہی پارلیمانی لیڈر یا کسی دیگر عہدیدار کی بات مانیں گے۔سینیٹر زرقا سہروردی نے پارٹی قیادت سے رابطہ نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے چیئرمین اور جنرل سیکریٹری سے ملاقات کے لیے کوشش کررہی ہیں مگر انہیں نہ اپائنٹمنٹ دی گئی اور نہ ہی فون کالز کا جواب دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ خاتون اور سینیٹر ہیں اس لیے انہیں آسان ہدف بنایا گیا، پارٹی قیادت کا رویہ سنجیدہ نہیں ہے، 26ویں ترمیم کے موقع پر منظرعام پر نہ آنے والے مرد اراکین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی البتہ خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔پی ٹی آئی کی سینیٹر مشعال یوسفزئی کے حالیہ بیانات نے بھی پارٹی قیادت کے لیے مشکلات کھڑی کردی ہیں۔ مشعال یوسفزئی نے چند دن قبل ترجمان پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم کی جانب سے جاری پارلیمانی پارٹی کے اعلامیہ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ معلوم نہیں کہ یہ اعلامیہ کہاں سے آیا ہے، اس میں وہ باتیں نہیں ہیں جو پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کی گئی تھیں۔مشعال یوسفزئی نے پارٹی کے اندر موجود مخصوص گروپ پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ان کے خلاف منظم مہم چلائی جا رہی ہے کیونکہ وہ مائنس عمران خان بیانیے کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔انہوں نے سلمان اکرم راجا کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ اگر وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیانیے کا وزن نہیں اٹھا سکتے تو کسی اور کو موقع دینا چاہیے۔مشعال یوسفزئی کے بیانات پر پارٹی قیادت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ان کے خلاف شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کے اہل خانہ کے خلاف نامناسب زبان کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اس معاملے پر سلمان اکرم راجا نے وضاحت دیتے ہوئے کہاکہ ان کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو ہمیشہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے سامنے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بانی پی ٹی آئی کا ان پر اعتماد ہی بعض افراد کے لیے باعثِ تشویش ہے۔پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی لطیف کھوسہ نے بھی پارٹی کی جانب سے کیے گئے فیصلوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ معلوم نہیں مخصوص دنوں میں ہی احتجاج کی کال کیوں دی جاتی ہے۔جن دنوں کی قومی اہمیت ہوتی ہے ان دنوں میں ہی احتجاج کی کال دی جاتی ہے، اور اسی وجہ سے احتجاج کامیاب نہیں ہوتے، جبکہ پارلیمانی کمیٹی میں کیے جانے والے فیصلوں پر عملدرآمد بھی نہیں ہوتا۔پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیاکہ ان کی پارٹی کے لوگ انہیں ایوان میں بولنے نہیں دیتے اور صرف چند مخصوص اراکین کو ہی بار بار اظہارِ خیال کا موقع دیا جاتا ہے۔اقبال آفریدی نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کے ایوان میں اظہار خیال کے دوران خلل پیدا کیا اور بیرسٹر گوہر کو بولنے نہ دیا، پارٹی رہنماں کی جانب سے خاموش کرائے جانے کے باوجود وہ خاموش نہ ہوئے۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہاکہ پارٹی میں اس وقت اختلافات ہیں اور پارٹی متحد نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان 900 سے زیادہ دنوں سے جیل میں قید ہیں اور پارٹی ان کی رہائی کے لیے متحد نہیں ہو سکی جو انتہائی افسوس کی بات ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں