61

PTI قیادت ووٹرز کو غلط سمت نہ لیجائے (اداریہ)

اس وقت وطن عزیز جس مشکل دور سے گزر رہا ہے اور برسوں کی جمہوری ایکسرسائز کے بعد بھی ہم جمہوری طریقہ کار’ روایات اور اصولوں سے کوسوں دور ہیں ہم احتجاج کے نام پر سڑکیں روکنے’ ریاستی وسائل کو تباہ کرنے’ جلائو گھیرائو کرنے اور ہر طرح کے جانی ومالی نقصان کو بھی جائز قرار دینے سے گریز نہیں کرتے اور اب تو سلسلہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ایک سیاسی جماعت ملک کی ترقی کو ڈی ریل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہے جو نہ صرف قابل مذمت بلکہ ملکی سیاست کے اصولوں کے خلاف ہے پی ٹی آئی قیادت میں غیر سنجیدہ افراد نامناسب انداز میں اپنے ووٹرز کو غلط راستے پر چلانے کی کوشش کر رہی ہے اس حکمت عملی سے ناصرف ملک کو نقصان کے اصولوں کیخلاف ہے بلکہ پی ٹی آئی کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو گا سیاسی تحاریک چلتی رہتی ہیں سیاست قیادت احتجاج بھی کرتی ہے مگر جو کچھ پی ٹی آئی کی قیادت کر رہی ہے اس سے اسے کچھ حاصل نہیں ہو گا پی ٹی آئی کا بھارتی وزیر خارجہ سے مدد مانگنا ملک کے عوام کو بُرا لگا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ کسی کو اپنے احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں تو اس کا پہلا اور صاف مطلب اس کی طاقت’ حیثیت اور وسائل کا رعب وبدبہ اپنے لئے استعمال کرنا ہوتا ہے اگر بیرسٹر سیف بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو ابتدائی طور پر اپنے احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہی ہے کہ بھارت سے مدد مانگ رہے ہیں اس سے زیادہ شرمناک بیان پاکستان میں کسی بھی سیاسی جماعت کی طرف سے ہو نہیں سکتا اب بیرسٹر گوہر یا بیرسٹر سیف اس بارے جو چاہیں وضاحت یا تردید دیتے رہیں بات وہ ہے جو کہہ چکے پکار رہی ہے جو لوگ سن چکے ہیں کیا اقتدار کی ہوس میں انسان اتنا بھی بے حس ہو سکتا ہے کہ اپنے دشمن ملک کے وزیر خارجہ کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دے رہا ہے، پی ٹی آئی قیادت کو کچھ تو خدا کا خوف کرنا چاہیے، پی ٹی آئی کی قیادت نے اگر یہ لائن اختیار کی ہے یہ موقف اپنایا ہے کہ وہ اندرونی معاملات میں بھارت سے مدد مانگنے میں بھی عار نہیں سمجھیں گے تو اس سوچ پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے یہ سوچ واضح کرتی ہے کہ پی ٹی آئی نادان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو بیانات پی ٹی آئی کے راہنما دے رہے ہیں ایسے بیانات کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے کیا ایسے لوگ ملک کے کسی صوبے میں حکومت ہوتے ہوئے ملکی مفاد کو اولین ترجیح دے سکتے ہیں وہ لوگ جو بھارت سے مدد مانگیں ان سے خیر کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ بدقسمتی سے پی ٹی آئی نے اقتدار میں رہ کر بھی ملک وقوم کی خدمت کا کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دیا بلکہ دل کھول کر کرپشن کو فروغ دیا بانی پی ٹی آئی سے عوام کو بہت امیدیں تھیں کہ وہ اقتدار میں آ کر عام آدمی کی زندگی کو بہتر بنانے غربت ختم کرنے روزگار کے مواقعوں میں اضافہ کرنے ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے کردار ادا کریں گے مگر عوام کی توقعات دم توڑ گئیں جب ان کا قتدار ختم ہوا تو انہوں نے کبھی امریکہ اور کبھی اپنی فوج پر الزام تراشیاں شروع کر دیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ یوٹرن لیتے رہے بانی پی ٹی آئی کو جیل میں ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر وہ اس سے بھی سبق نہیں سیکھ سکے اور ان کے اندر وہ ہی اکڑ ہے جو اقتدار میں تھی عوام کی حمایت کے باوجود انہوں نے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا آج بھی وہ منفی سیاست کرنے میں مصروف ہیں موجودہ پی ٹی آئی قیادت بھی وہ ہی غلطیاں کر رہی ہے جو پارٹی کا بانی کر رہا ہے ووٹرز کو ریاست سے ٹکر لینے کی تربیت دینے والے ملک کی کیا خدمت کر رہے ہیں یہ عوام کے سامنے آ شکار ہو چکا ہے جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ ہرگز ملک وقوم کے مفاد میں نہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت بے وقت کی راگنی ختم کر کے مثبت سیاست میں اپنا حصہ ڈالے یاد رکھیں منفی سیاست زیادہ عرصہ نہیں چل سکتی پارلیمنٹ کے مسائل کو پارلیمنٹ میں ہی حل کیا جانا چاہیے سڑکوں پر احتجاجی سیاست میں سراسر نقصان ہی نقصان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں