30

آٹے کے حصول کیلئے محنت کش روزگار چھوڑنے پرمجبور

کوئٹہ(نامہ نگار)خواتین کے لیے یہ اچھی بات نہیں کہ وہ 20 کلو آٹے کے ایک تھیلے کے لیے کئی روز تک سڑکوں پر بیٹھ کر انتظار کریں۔ بڑی تعداد میں ہم خواتین بھی کئی گھنٹے مختلف مقامات پر آٹے کی خریداری کے لیے بیٹھی رہتی ہیں۔ اس دوران اگر کسی کو پیشاب کی حاجت ہو تو وہ کہاں جائے۔ یہ کوئی عزت کی بات تو نہیں ہے ناں۔یہ کہنا ہے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بروری روڈ کے علاقے سے تعلق رکھنے والی 70 سالہ خاتون امام بی بی کا جنھیں پیر کے روز کوئٹہ ریلوے سٹیشن کے سامنے کئی گھنٹے انتظار کے باوجود سرکاری ریٹ پر ملنے والا آٹے کا تھیلا نہیں مل سکا۔گذشتہ چند روز سے آٹے کی سرکاری نرخوں پر عدم دستیابی کی خبریں ملک کے مختلف حصوں سے موصول ہو رہی ہیں اور اگر بلوچستان کی بات کی جائے تو وہاں گزشتہ دو ہفتے سے آٹے کے بحران میں شدت کے باعث صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں 20 کلوآٹے کے تھیلے کی قیمت 2800 روپے جبکہ صوبے کے دیگر علاقوں میں 3200 روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔آٹے کے سرکاری نرخوں پر حصول کے خواہش مند کم آمدنی والے طبقے کو کس قدر مشکلات کا سامنا ہے؟ یہی ہمیں بتایا عمر رسیدہ امام بی بی نے جو گذشتہ دو ہفتوں سے اپنے بچوں کے لیے سستا آٹا خریدنے کے لیے تگ و دو کر رہی ہیں تاہم انھیں مسلسل ناکامی کا سامنا ہے۔میرے دو بچے معذور ہیں اور دوسرے چھوٹے ہیں۔ ایک کمانے والا ہے جو مزدوری کرتا ہے۔ مزدوری بھی کبھی ملتی ہے اور کبھی نہیں ملتی۔ میں خود گھروں میں کام کرتی ہوں۔ گذشتہ 8 روز سے بچے بھوکے ہیں اور میں خود محلے والوں سے مانگ کر بچوں کو تھوڑا بہت کھلا رہی ہوں، کیونکہ عام دکانوں پر آٹا مہنگا ہے جبکہ سستا آٹا آسانی سے ملتا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں