تھانے پر حملہ،حوالات میں بند3بھائی قتل

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پرانی دشمنی کی بنا پر آتشیں اسلحہ سے لیس مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر کے تھانہ صدر تاندلیانوالہ کی حوالات میں تین بھائیوں کو گولیوں سے بھون ڈالا جبکہ گولیاں لگنے سے ان کا کزن بری طرح زخمی ہو گیا، تھانہ پر حملہ کرنے والے ملزمان ہوائی فائرنگ اور دھمکیاں دیتے ہوئے موقع سے فرار ہو گئے، حوالات میں بند تین بھائیوں کے قتل کی اطلاع ملتے ہی سی پی او کامران عادل’ ایس پی انوسٹی گیشن’ ایس پی سمیت اعلیٰ پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے اور نعشوں کو تحویل میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا اور قاتلوں کی گرفتاری کیلئے ایس پی انوسٹی گیشن’ ایس پی سی آئی اے کی سربراہی میں مختلف ٹیمیں تشکیل دیتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ تاندلیانوالہ میں سکھیرا برادری اور کھرل برادری کے درمیان قتلوں کی پرانی دشمنی چلی آ رہی ہے اور دونوں پارٹیوں کے کئی افراد قتل ہو چکے ہیں اور تھانہ سٹی تاندلیانوالہ پولیس نے مقدمہ نمبری 1209/24 بجرم 302′ 7ATA کے جرم میں تین ملزمان بھائیوں بلال’ عثمان’ ناصر اور ان کے کزن آصف کو گرفتار کر کے دشمنی کی بناء پر محفوظ رکھنے کیلئے تھانہ سٹی تاندلیانوالہ کی بجائے تھانہ صدر تاندلیانوالہ کی حوالات میں بند کیا تھا۔ آج علی الصبح 4:45 کے لگ بھگ مقتولین کے مخالفین چھ کس افراد تھانہ صدر تاندلیانوالہ کی عقبی دیوار سے سیڑھی لگا کر تھانہ میں داخل ہوئے، اس وقت تھانہ میں موجود پولیس ملازمین خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔ آتشیں اسلحہ سے لیس مسلح افراد نے تھانہ صدر تاندلیانوالہ کی حوالات پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کی وجہ سے تھانہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھا۔ مسلح ملزمان نے حوالات میں بند تین بھائیوں بلال’ عثمان’ ناصر کو گولیوں سے بھون ڈالا جبکہ ان کا کزن آصف گولیاں لگنے سے شدید مضروب ہو گیا، ملزمان ہوائی فائرنگ اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے تھانہ سے فرار ہو گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ صدر تاندلیانوالہ میں داخل ہونیوالے مسلح افراد کی فائرنگ سے سنتری محفوظ رہا۔ آر پی او ڈاکٹر عابد خان نے تہرے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے سی پی او سے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی۔ سی پی او کامران عادل اور سینئر پولیس افسران بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور پی ایف ایس اے کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کئے۔ سی پی او نے ایس پی انوسٹی گیشن عبدالوہاب اور ایس پی سی آئی اے کی سربراہی میں مختلف ٹیمیں تشکیل دیتے ہوئے قاتلوں کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ پولیس کی ٹیموں نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے شہر بھر کی ناکہ بندی کرتے ہوئے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق 10 مشتبہ افراد کو حراست میں لیکر تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔دریں ثنائ۔فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) تھانہ صدر تاندلیانوالہ کی حوالات میں مارے جانیوالے 3بھائیوں اور زخمی ہونیوالے کزن نے اپنے دیگر ساتھیوں سے ملکر 10اکتوبر 2024ء کو تاریخ پیشی پر جاتے ہوئے3 مخالفین حق نواز مقصود اور وقاراعظم کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ تھانہ سٹی پولیس نے ملزمان عمران’ عثمان’ ناصر’ آصف’ بلال پسران یارا’ محمد یار’ محمد حسین پسران شاکر’ حسن حیدر ولد محمد حسین’ اشرف ولد چراغ’ لیاقت ولد اشرف’ عمر فاروق ولد باقر اور دو کس نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ نمبری 1209/24 بجرم 7ATA’ 302′ 109′ 148′ 139′ 120 ت پ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق 10اکتوبر 2024ء کو حقنواز’ مقصود’ وقار اعظم وغیرہ مقدمہ نمبری 1150/24 بجرم 365 کی عبوری ضمانتیں کروانے کیلئے تاریخ پیشی پر تحصیل کچہری تاندلیانوالہ جا رہے تھے کہ جب وہ قائداعظم روڈ پر ٹریکٹر ورکشاپ کے قریب پہنچے تو تعاقب میں آنے والے موٹرسائیکل سوار ملزمان عمران’ عثمان’ آصف اور ان کے دیگر ساتھی جو قریبی دکانوں میں چھپے ہوئے تھے اور اندھا دھند فائرنگ کر کے حقنواز’ مقصود اور وقاراعظم کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، تاہم سٹی تاندلیانوالہ پولیس نے اس تہرے قتل کے مقدمہ میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کر کے جوڈیشل ہونے پر جیل بھجوا دیا اور گزشتہ دنوں مزید چار ملزمان تین بھائیوں بلال’ عثمان’ ناصر اور ان کے کزن آصف کو گرفتار کر کے تھانہ سٹی تاندلیانوالہ کی بجائے تھانہ صدر تاندلیانوالہ کی حوالات میں بند کروایا تھا جبکہ تین ملزمان ابھی تک مفرور ہیں اور حوالات میں مارے جانیوالے ملزمان نے کچھ عرصہ قبل سخاوت علی اور اس کے بیٹے کو بھی قتل کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں