22

زرمبادلہ ذخائر میں کمی ‘ پاکستان کی ادائیگیاں کرنا مشکل ہوگیا

اسلام اباد (بیوروچیف)آئی ایم ایف پروگرام کی چھتری کی غیر موجودگی میں پاکستان کی بیرونی فنانسنگ پائپ لائن خشک ہوتی دکھائی د ے رہی ہے جب کہ ملک میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں40فیصد کمی کے ساتھ صر ف 5ارب596کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر بھیجی گئیں جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 9ارب40کروڑ ڈالر تھیں۔ رپورٹ کے مطا بق رقوم کی آمد22ارب80کروڑ ڈالر کے بجٹ ہدف کا صرف24.5فیصد بنتا ہے جس کا مطلب ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی فوری بحا لی کے بغیر ملک اپنی بیرونی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر سکے گا جب کہ اسٹیٹ بینک آف پا کستا ن کے زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی ہو ر ہی ہے اور اس کے ذخائر گزشتہ ہفتے صر ف 3 ا ر ب ڈالر سے کچھ ہی اوپر تھے۔گزشتہ پانچ مہینو ںجولائی سے نو مبر کے دوران پاکستان نے تقر یبا5 ا ر ب 115 کروڑ ڈالر کے غیر ملکی قرضے حا صل کیے جو کہ گز شتہ سال کے اسی عرصے میں حا صل کیے گئے غیر ملکی قرضوں سے تقریبا 14 فیصد زیادہ ہے۔وزارت اقتصادی امور نے فا ر ن ا کنا مک اسسٹنس ( ا یف ای اے) پر اپنی ماہا نہ ر پورٹ میں کہا کہ ا سے جولائی تا دسمبر 2022میں تقریبا 5 ار ب 595کروڑ ڈالر کی غیر ملکی امداد حاصل ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں