37

سیڈ لیس کنو کے پودوں کی تیاری

زرعی فیچر سروس
سیڈ لیس کنو زرعی سائنسدانوں کی ان تھک محنت اور تحقیقی کاوشوں کا بہترین مظہر ہے۔ صوبہ پنجاب میں سیڈ لیس کینو کی اقسام ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے زیر انتظام چلنے والے سٹرس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سرگودھا کے زرعی سائنسدانوں نے تیار کی ہے۔ ترشاوہ پودوں کی پیوند کاری کیلئے بہاریہ موسم فروری اور مارچ کے مہینے زیادہ اہم ہیں۔کنو کی یہ قسم فطرتی یا قدرتی میو ٹیشن کو کئی سالوں تک ٹیسٹ کرنے، اس کے پھل اور پیداواری صلاحیت کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد متعارف کرائی گئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیڈ لیس کنو کی نئی اقسام کے پودے نرسریوں میں جلد از جلد تیار کرکے باغبانوں کو کم قیمت پر فراہم کیے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ رقبہ پر اس کے باغات لگ سکیں اور مستقبل میں وطن عزیز کے باغبان اور ایکسپورٹرز اس قابل ہو جائیں کہ وہ درآمدی ممالک کو سیڈ لیس کنو کی برآمدات کے فروغ سے قیمتی غیرملکی زرمبادلہ حاصل کرسکیں۔ باغبانوں کو تسلیم شدہ اعداد و شمار کے ساتھ سائنسی طریقہ کار اور صحیح وقت پر نرسری کے مختلف عوامل پر عمل پیرا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس ضمن میںجدید زرعی مشینری کے استعمال کا حقیقی علم جاننا بہت ضروری ہے۔سیڈ لیس کنو کی نرسریاں تیار کرنے کیلئے ہلکی میرا زمین نرسری ایک بہتر انتخاب ہے اور نرسری کی کاشت کیلئے ایسی جگہ منتخب کی جائے جہاں پر کم سے کم بیماریوں اور حشرات الارض کا خطرہ ہو۔ نرسری کی جگہ سے دیگر فصلوں، سٹرک اور گزر گاہ کا فاصلہ کم از کم 15 میٹر ضرور ہو۔ نرسری کی جگہ کیلئے زمین ایسی ہو جہاں پر نکاسی آب کیلئے بہتر انتظام ہو ۔ ایسی جگہ ہر گز منتخب نہ کی جائے جہاں پر پانی اکٹھا ہو جائے اور آلودگی کا سبب بنے۔ سیڈ لیس کنو کی پیوندی لکڑی کے انتخاب میں انتہا ئی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے کیونکہ سردست پنجاب بھر میں بہت ہی کم جگہوں پر انتہا ئی محدود تعداد میں اس کے پودے موجود ہیں۔ صحیح رہنمائی اور مدد کیلئے باغبان اور نرسری مالکان سٹرس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سرگودھا اور ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے زرعی سائنسدانوں سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ان لوگوں کو پیوندی لکڑی کے انتخاب میں انتہا ئی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ پیوندی لکڑی کے انتخاب میں شفافیت اس کارو بار کا مرکزی پہلو ہے۔پیوندی شاخ ہمیشہ اس سیڈ لیس کنو کے پودے سے لی جائے جو بہترین خصوصیات (یعنی زیرو سیڈ، اچھی اور مستقل پیداوار، پھل کی اعلیٰ کوالٹی اور بیماریوں کے خلاف مدافعت) کا حامل ہو۔ پودے کی عمر 7سے 8 سال ہو اور زیادہ پرانے اور کمزور پودوں سے پیوند حاصل کرنے سے گریز کیا جائے، پیوندی شاخ اور روٹ سٹاک کا معیار درج ذیل ہونا چاہیے۔پیوندی شاخ کی موٹائی10 سے 15 ملی میٹریا کم از کم پنسل کی موٹا ئی کے برابر اور لمبائی 15 سے 20 سینٹی میٹر ہمراہ 3 سے 4 چشم یا بڈز، عمر 6 سے 9 ماہ سفید دھاری والی شاخ، پیوند کاری کیلئے زمین سے اونچائی9 تا12 انچ اور پیوندی لکڑی گول اور کانٹوں سے پاک ہو۔ اس مقصد کیلئے واٹر شوٹ یا کچے گلے ہر گز استعمال نہ کیے جائیں۔ اسی طرح روٹ سٹاک کی موٹائی 10سے 15 ملی میٹر، اشتراک سا ئن اور سٹاک ایک جیسا اور روٹ سٹاک کی لمبائی3 سے 4فٹ ہونی ضروری ہے۔ نرسری کی کاشت کیلئے سیڈ بیڈ کی ساخت میں چوڑائی 4 فٹ، لمبائی6 فٹ، سطح زمین سے اونچائی 15 سینٹی میٹر، بیجوں کا قطار سے قطار کا فاصلہ15 سینٹی میٹر اور بیجوں کی گہرائی10 ملی میٹررکھی جائے۔ نرسری میں منتقلی کے بعد پودوں کا درمیانی فاصلہ 20 سے 25 سینٹی میٹر اور قطاروں کا فاصلہ 20 سے 30 سینٹی میٹر رکھنا ضروری ہے۔ ہر چار لائنوں کے بعد2فٹ فاصلہ چھوڑ دیں اور پھر اگلی چار لائنیں کاشت کریں تاکہ پودوں کی پیوندکاری اور نرسری کی صفائی کیلئے کوئی دشواری پیش نہ آئے۔جب کھٹی کے پودوں میں رس چلنا شروع ہو جائے اور چھلکا باآسانی اتر جائے تو پیوند کاری آسانی سے ہوسکتی ہے۔سیڈ لیس کنو کی ایکسپورٹ کرکے ہم ملک کے لئے قیمتی زرِ مبادلہ کما سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں