13

سی پیک منصوبوں میں چین کا تعاون قابل تعریف

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ چین’ چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں پُرامن اور قابل عمل ماحول دینے میں کردار ادا کرے گا دونوں ملکوں کے مابین دوطرفہ تجارت میں اضافہ کا باعث ہو گا جبکہ وزیراعظم کا دورہ پاک چین اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو گا، مضبوط شراکت داریاں قائم کرنے سے دونوں ممالک کو طویل مدتی فوائد حاصل ہوں گے پاکستان کو چین کی معروف ٹیک کمپنیوں تک رسائی ملے گی، وزیراعظم چین میں بڑے پیمانے پر کاروباری شراکت داری کے خواہاں ہیں وزیراعظم کے پانچ روزہ دورے کے دوران چین پاکستان اقتصادی راہدای کے فیزII کا اعلان کیا جائے گا جس میں اربوں ڈالرز کے 4منصوبے شامل ہیں ان منصوبوں میں پہلے زراعت اور دوسرے نمبر پر ایم ایل ون منصوبہ پر کام شروع کرنے کا اعلان ہو گا ایم ایل ون منصوبہ تقریباً 6.7 بلین ڈالرز کا ہے تیسرا منصوبہ بزنس ٹو بزنس ڈیل سے متعلق ہے جبکہ چوتھے منصوبے میں قراقرم ہائی وے کی ری الائیمنٹ شامل ہے، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان مائوننگ نے شہباز شریف کے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے قائدین کی راہنمائی میں چین اور پاکستان نے حالیہ برسوں میں نہ صرف اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے کئے ہیں بلکہ مستحکم طور پر سی پیک کے سلسلے میں عملی تعاون کو آگے بڑھایا ہے اور بین الاقوامی اور علاقائی امور میں دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط رابطے اور ہم آہنگی برقرار رکھی گئی ہے،،بلاشبہ سی پیک منصوبے کے تحت چین پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہا ہے جو قابل تعریف ہے،، چین اور پاکستان کی دوستی پوری دنیا میں مثالی قرار دی جا رہی ہے چین نے پاکستان کا ہر مشکل گھڑی میں ساتھ دیا ہے، پاکستان کو دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت بنانے کیلئے چین نے پاکستان کے اشتراک سے اقتصادی راہداری منصوبہ میں بھاری سرمایہ کاری کر کے اسے یہ حوصلہ دیا کہ چین اس کے ساتھ مکمل تعاون کیلئے تیار ہے 2018ء سے پہلے تک سی پیک سرعت رفتار سے تکمیل کی جانب گامزن تھا 2018ء کے انتخابات کے نتیجے میں نواز حکومت اقتدار میں نہ آ سکی اور پی ٹی آئی کو اقتدار مل گیا جس کے بعد سی پیک کے کام میں سست رفتاری شروع ہو گئی جس سے چین کی بھاری سرمایہ کاری متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے پی ٹی آئی حکومت اپنا عرصہ اقتدار پورا نہ کر سکی اور اتحادی حکومت کو 16ماہ تک حکومت کرنے کا موقع ملا جس کے بعد ایک بار پھر چین اور پاکستان کے درمیان نزدیکیاں پیدا ہوئیں اور سی پیک کے منصوبوں پر ایک بار پھر تیزی سے کام کا آغاز ہوا 2024ء کے عام انتخابات کے بعد اتحادی حکومت قائم ہوئی شہباز شریف کا دوسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد چین کا پہلا دورہ ہے جو باہمی تعاون کے حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہے جس کا بڑا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے وزیراعظم شہباز شریف دورہ چین مکمل کر کے 8جون کو واپس وطن پہنچیں گے سی پیک منصوبوں کی بدولت پاکستان بہت جلد ابھرتی ہوئی معیشت بنے گا، گوادر کی بندرگاہ عالمی تجارتی مرکز بننے جا رہی ہے جہاں سے تجارتی مال روانہ ہو گا اور منگوایا جا سکے گا سی پیک کے قیام کے اعلان سے سب سے زیادہ تکلیف بھارت کو پہنچی تھی اور اس نے سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر بھارتی حکمران چینی صدر کے عزم کو کمزور کرنے میں ناکام رہے انشاء اﷲ 2030ء تک سی پیک منصوبے مکمل ہو جائیں گے جس کے بعد پاکستان دِن دوگنی رات چوگنی ترقی کرے گا پاکستان پر چڑھے تمام غیر ملکی قرضے اُتریں گے اور پاکستان کی کرنسی کی قدر میں نہ صرف اضافہ ہو گا بلکہ یہ عالمی کرنسیوں کا مقابلہ بھی کرے گی پوری قوم دعاگو ہے کہ پاکستان اور چین کے اشتراک سے بننے والا گیم چینجر منصوبہ (سی پیک) جلد پائیہ تکمیل تک پہنچے ملک خوشحال اور قوم مطمئن ہو… ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنے دور اقتدار میں اس عظیم منصوبہ کو مکمل کرنے کیلئے اپنی تمام توانائیاں صرف کر دیں اسی میں ملک وقوم کی بھلائی اور ہماری ترقی کا راز مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں