150

شکاگو کے مزدوروں کا لہو بنا لیبر ڈے کی اساس

تحریر: ملک بلال لطیف
کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی میں وہاں کے مزدورکلیدی کردار اد ا کرتے ہیں۔ بلکہ مزدور تو کسی بھی ملک میں معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ آسمانوں کو چھوتی ہوئی عمارتیں ہوں یا گہرے سمندروں میں بسائے گئے شہر’ سبھی اصل میں ان مزدوروں کے کارنامے ہی ہیں۔ ان کی اسی محنت اورقربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہر سال یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن منایاجاتا ہے۔اگر لیبر ڈے کے تاریخی پس منظر کودیکھا جائے تو اس میں لاکھوں مزدوروں کے لہو اور قربانیوں کے واضح نشانات نظر آتے ہیں۔ دراصل پہلے صنعتی انقلاب کے بعد یورپ اور امریکہ میں بڑی بڑی صنعتوں کو کھڑ ا کیا گیا۔اور ان تمام صنعتوں پر ایک خاص سرمایہ دار طبقہ قابض تھا’ جو بے حسی اور استحصال میں اپنی مثال آپ تھا ۔جو خود تو دن بہ دن خوشحال ہو کر انڈسٹریوں پہ انڈسٹریاں لگا رہا تھا۔ دوسری طرف ان کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور پستے چلے جارہے تھے۔ ان سرمایہ داروںکی نظروں میں مزدوروں کی قدر و قیمت کیڑے مکڑوں کے علاوہ کچھ نہ تھی۔معمولی سی اجرت پر ان سے دن رات سولہ سولہ گھنٹے کام لیا جاتا۔ اگر اس نا انصافی پر کوئی آواز بلند کرتا تواس کی آواز کو کرائے کے غنڈوں اور مقامی انتظامیہ کے ذریعے دبا دیا جاتا ۔ یا پھر دوسری انڈسٹریوں کے مالکان کے ساتھ مل کر اس ملازم کو ہمیشہ کے لئے بلیک لسٹ کر دیا جا تا۔سرمایہ داروں کی انہی نا انصافیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکہ کی مختلف مزدور یونینز نے مل کر Federation of Organized Trades and Labor Unions قائم کی، جس کا مقصد مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنا تھا۔ اس فیڈ ریشن نے 1884اکتوبر میں اپنے ایک جلاس میں طے کیا کہ 1886 1Mayسے مزدوروں کے کام کے اوقات کار صرف 8 گھنٹے ہوگے۔ 1886 1Mayکے دن فیڈریشن کے اس فیصلے کی حمایت میں امریکہ کے بڑے بڑے صنعتی شہروں میں عام ہڑتال ہوئی ‘لاکھوں مزدوروں نے شہر شہر ریلیاں نکالی’ جس میں
ان کے حق میں گیت اور نغمے بھی گنگنائے گے۔ کچھ دن بعدMay 3 کو ایسی ہی ایک ہڑتال امریکہ کے شہر شکاگو میں McCormicks نامی فیکٹری کے باہر جاری تھی کہ مزدوروں کے دو گروپس جن میں ہڑتال کو لے کر اختلافات چل رہے تھے ان کے درمیان ایک تصادم پیش آیا۔ پولیس جو کہ سرمایہ داروں کی آلہ کار تھی’ اس نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان مزدوروں پر فائر کھول دیئے’ جس کے نتیجے میں مزدور ہلاک ہوگئے۔اس سانحے کے خلاف اگلے ہی دن مئی 4 کو شکاگو کی ایک معروف Haymarket پر ایک احتجاجی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف مزدور لیڈروں نے اپنے مزدور بھائیوں کے حق میں تقریریں کی۔ اجلاس ابھی جاری تھا کہ اس مجمع کو منتشر کرنے کے لئے پولیس کی ایک بڑی تعداد آ پہنچی۔ جب پولیس ان مظاہرین کی طرف بڑی تو ایک نامعلوم شخص نے پولیس پر دستی بمب پھینک دیا’جس کے پھٹنے سے چند پولیس اہلکار ہلاک ہوگے۔ اس کاروائی کو جواز بناتے ہوئے پولیس نے نہتے مزدوروں پر گولیاں برساناں شروع کردی’ جس سے سینکڑوں مزدور ہلاک ہوئے۔ اس قدر خون بہایا گیا کے مزدوروں کے سفید جھنڈے اور سڑکیں خون سے لال ہوگئی ۔یہی نہیں اس واقعہ کا ذمہ دارمزدوروں کو ٹھہراتے ہوئے ان کے لیڈروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر جھوٹامقدمہ چلا کر گرفتار ہونے والوں لیڈروں میں سے سات کو سزائے موت اور ایک کو 15 سال کی قید سنا دی گئی۔جیوری کا فیصلہ اس قدر غیر منصفانہ تھا کہ سزا پانے والوں میں سے 6 افراد تو حادثہ کہ وقت وہاں سرے سے موجودہی نہ تھے۔ 11Nov,1888 کو چار مزدور لیڈروں کو سر عام پھانسی دے دی گئی’ چاروں پوری دنیا کے سامنے تڑپ تڑپ کے ہلاک ہوگئے۔ کچھ ہی وقت میں اس ظلم کی خبریں پوری دنیا میں پھیل گئی۔ اس دل سوز واقعہ نے پورے یورپ اور امریکہ کی فضاء کو افسردہ کر دیا۔ ان بے قصور مزدورں کے حق میںجگہ جگہ مظاہرے کیے گئے۔اس وقت کی مزدور وں کی معروف تنظیموںAmerican Federation of Labor اور The second International نے بھی باہمی اشتراک سے 1May,1990 کو دنیا بھر میںHaymarket کے مزدوروں کی یاد اور مزدوروں کے کام کے اوقات کو 8 گھنٹوںتک محدود رکھنے کے لئے مظاہرے کروائے ۔ تب سے لے کر اب تک ہر سال 1Mayمزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جارہاہے۔ان مزدوروں کی قربانیاں جنگ عظیم اول کے بعدآخراس وقت رنگ لا ئی’ جب Leauge of Nation کے زیر نگران بننے والی(ILO) Organisation Labor International نے باقاعدہ طور پر مزدوروں کے کام کے اوقات کو 8 گھنٹوں رکھنے کو بین الاقوامی معیار قرار دیا۔دیکھا جائے تو مزدور آج اس واقعہ کے سو سے زائد سال گزرنے کے بعد بھی انہی محرومیوں اور استحصال کا شکار ہیں۔ آج بھی ان سے معمولی اجرات کے عیوض چودہ چودہ گھنٹے کام کروایا جاتا ہے۔ بلکہ ان کو تو اپنی تنخواہوں سے مہینوں تک محروم رکھا جاتا ہے۔ بچوں کی فیسوں سے لے کر روزمرہ کی اشیاء کے ادھارکی بروقت ادائیگی نہ کرنے سے’ان کو تانے سن کر جن اذیتوں سے گزرنا پڑتا ہے ‘اس کا اندازہ کسی کو کہا۔آج 1Mayمزدوروں کا دن ‘لیکن ذیادہ تر مزدور اس دن کو مٹی میںمٹی ہوکر گزارے گے کیونکہ بہت سے بھوکے پیٹ ان کے منتظر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں