28

ماں

تحریر: مریم حامد
ہر قبر کا حق ہے کہ اس پر فاتحہ پڑھی جائے، زندگی میں کچھ یاد گار ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی قبریں دل کے اندر ہوتی ہیں، اور ان کی بخشش بلندی درجات کے لیئے انسان اپنے دل سے ہی ہر دم دعا گو رہتا ہے، یہ ہستی ماں باپ کی ہے، ان پیاروں کی ہے جو آپ سے بلا کسی غرض کے محبت کرتے ہوں اور خوشحال زندگی کی دعائیں ہر لمحہ دیتے ہوں، انسانی زندگی خوشی اور غم کا امتزاج ہے۔ ہر موقع پر توازن اور اعتدال کو برقرار رکھنا دین اسلام کی بنیادی روح ہے۔ پوری زندگی ہے ہی امتحان لہذاکسی نہ کسی طرح ہمہ وقت آزمائشوں کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ دنیوی زندگی کے ان ہی کٹھن مرحلوں میں سے ایک ماں باپ میں سے کسی کی رحلت اور جدائی ہے۔ ”ماں کی ممتا” تو ایک ضرب المثل بن چکی ہے۔
ہر سال جیسے ہی دسمبر کا مہینہ شروع ہوتا ہے، مجھے اپنی ماں جی کی یاد شدت کے ساتھ ستانے لگتی ہے، ان کا انتقال 25 دسمبر 2010 ، کو ہوا تھا، اور میں ماں جیسی عظیم ہستی کی محبت سے محروم ہو گئی، ماں جی کے ساتھ وابستہ یادیں اتنی ہیں کہ لکھتی جائوں لیکن ختم نہ ہوں ، میںتاہم اپنی اس تحریر کو ماں جی کے ساتھ محبت سے ہی عبارت بنائوں گی، اور اس مضمون کے ذریعے قارئین کی خدمت میں درخواست کروں گی کہ وہ میری ماں جی کے بلندی درجات کے لیئے دعا کر دیں کہ اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں۔ اور انہیں نبی کریم ۖ کی شفاعت نصیب ہو۔
نبی کریم ۖ نے فرمایا کہ ”اللہ تعالٰی اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا ایک ماں اپنے بچہ پر مہربان ہو سکتی ہے’۔ اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے بھی ماں کی بے لوث محبت پر مہر تصدیق ثبت ہوتی ہے۔ ماں دنیا کا سب سے انمول زیور ہے۔ دنیا میں ماں سب سے زیادہ پیارا رشتہ ہے۔ رسول اکرم ۖ نے فرمایا، ماں کے پاؤں تلے جنت ہے اور یہ بات ایک کھلی حقیقت ہے کہ زندگی میں ماں سے محبت، تابعداری، کا انعام ایک خوشحال زندگی کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ حضرت شیخ سعدی نے کہا ”محبت کی ترجمانی کرنے والی اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف ماں ہے”۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے کہا ”سخت سے سخت دل کو ماں کی پرنم آنکھوں سے موم کیا جاسکتا ہے”۔ الطاف حسین حالی نے کہا ”ماں کی محبت حقیقت کی آئینہ دار ہوتی ہے”۔مشہور مغربی دانشور جان ملٹن نے کہا ”آسمان کا بہترین اور آخری تحفہ ماں ہے”۔
اسی طرح شیلے نے کہا ”دنیا کا کوئی رشتہ ماں سے پیارا نہیں”۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے دانشوروں اور عالمی شہرت یافتہ شخصیات نے ماں کی عظمت اور بڑائی کا اعتراف کیا ہے۔ ماں،ماں ہی ہوتی ہے جس کا کوئی بدل نہیں۔ ماں کی محبت ایک بحر بیکراں کی طرح ہے۔ ماں کی بے پایاں محبت کو لفظوں میں نہیں پُرویا جا سکتا۔خلوص و ایثار کے اس سمندر کی حدود کا اندازہ لگانا ممکن نہیں، ہر مذہب اور ہر تہذیب نے ماں کو عظیم اور مقدس قرار دیا ہے۔آسمان نے کہا۔ ماں کی عظمت ورفعت افلاک کی وسعتوں سے بڑھ کر ہے۔زمین نے کہا۔ ماں کے پیروں کی دھول میں بھی پھول اگتے ہیں، چاند نے کہا۔ ماں ایسی میٹھی روشنی جس میں ممتا اور محبت کی کلیاں مسکراتی ہیں۔ چاندنی نے کہا۔ ماں ایسی روشنی ہے جس میں تپش نہیں ہوتی۔ تا ریکی نے کہا۔ ماں ایک تابندہ ستارہ ہے جو اندھیرے میں روشنی بکھیرتی ہے۔ ستاروں نے کہا۔ ماں ایسی دیپ ہے جس کی تا بندگی کے آگے زہرہ، مریخ اور ثاقب کی بھی روشنی ماند پڑ جاتی ہے۔ بادل نے کہا۔ ماں کی نظرِ کرم ابرِ رحمت کا خو شگوار سایہ ہے۔سمندر نے کہا۔ ماں کا دل ساگر سے بھی زیادہ گہرا ہے، جہاں پر رنج وغم چھپ جاتے ہیں۔مالی نے کہا۔ ماں ایک چمن ہے جس کے پھولوں کی رنگت کبھی ماند نہیں پڑتی۔پھولوں نے کہا۔ ماں ایسی خوشبو ہے جس کے وجود سے پوری کائنات معطر رہتی ہے۔قدرت نے کہا۔ ماں میری طرف سے دنیا والوں کے لیے عظیم تحفہ اور انعام خداوندی ہے۔
ماں جس کی پیشانی میں نور، جس کی آنکھوں میں ٹھنڈک، جس کی باتوں میں محبت، جس کے دل میں رحمت، جس کے ہاتھوں میں شفقت، جس کے پیروں میں جنت اور جس کی آغوش میں پوری دنیا کا سکون رکھ دیا گیا اور پھر اس کی عظمت کا اعتراف خالق نے مخلوق سے اس طرح کرایا کہ خدا کی بندگی اور رسول کی
پیروی کے بعد اطاعت وفر مانبرداری اور خدمت گزاری کا سب سے بڑا درجہ کسی کو حاصل ہے تو وہ ماں ہے۔ جس کو صرف محبت بھری نظرسے دیکھ لینے سے حج کا ثواب مل جاتا ہے۔ رب کائنات ہم سب کو ماں باپ کو با لخصوص ماں کی عظمت اور فر ماں برداری کر نے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین۔
ماں جنت ہے اور ماں کی قدر کا اس وقت پتہ چلتا ہے جب ماں دنیا سے چلی جاتی ہے دنیا میں ماں کے بغیر ایسا لگتا ہے جیسے میں دنیا میں اکیلی ہوں۔ ماں جیسی چھاؤں کسی کے پاس نہیں۔ ماں اللہ تعالیٰ کا جنتی میوا ہے۔ جو ا تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں عنایت فرمایا ہے۔ جب بھی کبھی انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے منھ سے ماں نکلتا ہے۔ ماں ہی کی بدولت ہمیں سب کچھ ملا۔ دونوں جھاں ماں کی وجھ سے قائم ہیں۔ ماں سے دونوں جہاں کا وجود ہے۔ ماں اللہ تعالی کی طرف سے ہمارے لیئے ایک عظیم نعمت ہے۔ جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ ماںکے بغیر اس دنیا میںکچھ بھی نہیںہے۔ ماںکائنات میںانسانیت کی سب سے قیمتی متاع اور عظیم سرمایہ ہے۔ اسلام میںاولاد کی پوری زندگی ماں کے تقدس، اس کی عظمت کے اظہار اور خدمت واطاعت کے لیے مخصوص ہے۔ اس کے لیئے کسی دن کو مخصوص کرنا اس کی روح کے منافی ہے۔ اسلام میںہر سال، ہر مہینہ، ہر دن اور ہر لمحہ ماں کی خدمت اور اطاعت کے لیئے وقف ہے”۔ مقصود کائنات پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”مائوں کے قدموں تلے جنت ہے”ماں ایک محبت بھرا احساس ہے کسی کے لیے ماں ایک گھنا شجر ہے تو کسی کے لیئے احساس ہے، کوء یہ کہتا ہے کہ ماں سائباںہے تو کسی کے لیے ماں ہی دھرتی ہے۔ بلاشبہ ماں دو لفظ ہیں کہ جس کی کوئی مثال نہیںملتی۔ وہ گھنا سایہ جو چھائوںتو دیتاہے لیکن صلے کی پرواہ نہیںکرتا۔ اگر ماں نہیں تو زندگی کا ہر کام ادھورہ رہ جاتا ہے۔ جہاں لفظ ماں آیا سمجھ لیا کہ ادب کا مقام آیا میری نظر میں تخلیق کائنات کے وقت اللہ رب العزت نے اس پاک ہستی کو یہ سوچ کر بنایا کہ جب انسان کو دنیا میں کہیں سکون کی دولت نہ ملے گی تو اپنی ماں کی آغوش میں آکر اپنی سوچوں آہوں اور دکھوں کو نثار کرے گا اور ایسی راحت محسوس کرے گا جو اسے کہیں نہ ملی ہو گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں