27

ملک میں پٹرولیم مصنوعات کا بحران سر اٹھانے لگا

اسلام آباد(بیوروچیف)ملک میں تونائی کے بحران کے مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ بینکوں نے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ دینے اور اس کی توثیق سے انکار کردیا ہے۔آئل ایڈوائزری کونسل نے سیکریٹری فنانس اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی توجہ اس گھمیر صورت حال کی جانب مبذول کرائی ہے۔آئل ایڈوائزی کونسل کی جانب سے لکھے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وہ تیل کمپنیوں کے ممبران اور ریفائنریزکی جانب سے اس امر کی نشاندہی کرنا چاہتی ہے کہ بینک تیل درآمدات کے لیے لیٹر آف کریڈٹ فراہم نہیں کررہے اور ایل سیز وقت پر فراہم نہیں کیے گئے تو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید کمی واقع ہوگی اور اگر طلب اور رسد میں فرق پیدا ہوا تو صورت حال کو قابو کرنے کے لیے چھ سے آٹھ ہفتے مزید لگ سکتے ہیں۔اپنے مراسلے میں آئل ایڈوائزی کونسل کا مزید کہنا تھا کہ بینکوں کی جانب سے ایل سیز وقت پر نہ کھولنے کے باعث متعدد درآمدی شپمنٹ تاخیر کا شکار ہیں اور بہت سے کیسنل کرنا پڑی ہیں۔ تیل کی درآمد میں رکاوٹ اور تاخیر سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ وزارت پیٹرولیم اور مرکزی بینک مداخلت کرتے ہوئے تیل کے درآمدی عمل کے تسلسل کو یقینی بنائیں۔اس حوالے سے ہیسکول پیٹرولیم لمیٹڈ نے بھی گورنر اسٹیٹ بینک کو ایک خط لکھا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی کو تیل کی درآمد کے سلسلے میں بینکوں میں لیٹر آف کریڈٹ کھولنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اس مسئلے کو بروقت حل نہ کیا گیا تو ملک میں تیل کی سپلائی میں کمی واقع ہوگ جس سے مسائل میں اضافہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں