31

مہنگائی کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر(اداریہ)

ادارہ شماریات نے ماہانہ مہنگائی کے اعداد وشمار جاری کر دیئے جس کے مطابق جنوری کے دوران ملک میں مہنگائی کی شرح میں 2.9 فی صد اضافہ ہوا اور ملک میں مہنگائی 27.6 فی صد کی سطح پر پہنچ گئی، جولائی 2022 تا جنوری 2023ء مہنگائی کی مجموعی شرح 25.40 فی صد ریکارڈ کی گئی جبکہ جولائی 2021 تا جنوری 2022 مہنگائی کی مجموعی شرح 10.26 فی صد تھی جنوری میں شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح میں 2.4 فی صد اضافہ ہوا شہروں میں مہنگائی کی شرح 24.4 فی صد رہی جبکہ دیہی علاقوں میں جنوری کے دوران مہنگائی کی شرح میں 3.6 فی صد اضافہ ہوا اور شرح 32.3 فی صد ہو گئی، پاکستان میں 1975ء کے بعد مہنگائی کی شرح بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ملک کے غریب اور متوسط طبقے کیلئے اشیائے ضروریہ کی سستے داموں فراہمی کیلئے قائم سرکاری سٹورز بھی بے فائدہ ہو گئے یوٹیلیٹی سٹورز پر سستا آٹا’ سستا گھی’ خوردنی آئل’ چاول’ دالیں’ مصالحہ جات’ چائے کی پتی’ سوپ سمیت ہر شے غریب افراد کی پہنچ سے باہر ہو چکی مہنگائی نے یومیہ اجرت اور کم آمدنی والے افراد کی زندگی مشکل بنا دی ہے حکمران بے بس ہو چکے ہیں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے دعوے دھرے رہ گئے دن بدن مہنگائی بڑھ رہی ہے ملک میں بے یقینی چھائی ہوئی ہے بے چارے عوام کا کچومر نگل گیا مگر حکمرانوں کو اپنے اقتدار کی پڑی ہوئی ہے سیاستی عدم استحکام نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے، موجودہ حکمران اس وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے کہ ملکی مسائل حل کریں گے عوام کو ریلیف دیں گے مہنگائی کے طوفان کو روکیں گے، بحرانوں پر قابو پائیں گے ملکی معیشت کو بہتری کی جانب گامزن کریں گے عام آدمی کی حالت سنواریں گے روزگار کے مواقع میں اضافہ کریں گے مگر سابقہ حکومت کی طرح یہ دعوے دم توڑ گئے اور آج ملک وقوم کی حالت پہلے سے بدتر ہو چکی ہے اس وقت معاشی صورتحال شدید بگاڑ کا شکار ہے وفاقی حکومت میں شامل سیاسی جماعتیں اپنے اپنے حال میں مست ہیں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی عوام کو سہانے خواب دکھائے کہ مہنگائی پر قابو پا لیں گے مگر وہ ناکام رہے بعدازاں لندن سے اسحاق ڈار کو بلوا کر وزارت خزانہ کا قلمدان سونپا گیا اسحاق ڈار نے آتے ہی ڈالر کے پر کاٹنے کے وعدے اور مہنگائی کا جن بوتل میں بند کرنے کے اعلانات کیے مگر عملی طور پر بھی کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھا پائے جس سے ان کے دعوئوں کی تائید ہو سکتی نتیجے کے طور پر جب مہنگائی بڑھنا شروع ہوئی تو انہوں نے تمام مسائل کی ذمہ دار تحریک انصاف کی حکومت پر ڈال دی اور کہا کہ عمران خان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ IMF سے ایسی شرائط پر معاہدہ کر لیا کہ ہم اب بے بس ہیں، جہاں تک ملک کا نظام چلانے کیلئے عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ حاصل کرنے کا تعلق ہے تو یہ نئی بات نہیں بلکہ دسمبر 1958ء سے اب تک پاکستان 22 مرتبہ آئی ایم ایف سے مالی مدد حاصل کر چکا ہے بدقسمتی سے پاکستان میں جتنی بھی حکومتیں آئیں وہ قرضوں پر ہی انحصار کرتی چلی آ رہی ہیں کسی بھی حکومت نے ایسی پالیسیاں ترتیب نہیں دیں جن کی بدولت ہم غیروں سے قرضہ حاصل کرنے سے نجات حاصل کر سکتے اگر ملک میں صنعتوں کو فروغ ملتا معیشت مضبوط ہوتی تو شائد قرضوں کے حصول کی ضرورت نہ پڑتی مگر ہماری حکومتوں نے الٹ کام کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم غیروں کے محتاج ہو کر رہ گئے، کورونا وباء کے عروج کے دنوں میں پاکستان کو مزید ایک موقع ملا تھا کہ وہ اپنی معیشت کو سیدھی پٹڑی پر ڈال لے لیکن وہ موقع بھی گنوا دیا گیا اس وقت بھارت’ بنگلہ دیش میں سخت تالابندی یا لاک ڈائون کی وجہ سے صنعتیں اور کارخانے بند تھے لہٰذا یورپ اور امریکہ سے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو آرڈر ملنے لگے کیونکہ ہم نے مکمل تالابندی نہیں کی تھی پاکستان نے ٹیکسٹائل مصنوعات خوب برآمد کیں اور یورپ وامریکہ کی منڈی میں اپنی مثبت ساکھ بھی بحال کی لیکن جیسے ہی وبا قابو میں آئی تو بھارت اور بنگلہ دیش میں تالابندی ختم ہو گئی وہاں کے کارخانوں نے کام شروع کیا تو انہوں نے بیرونی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی قیمتوں سے اپنی مصنوعات کی قیمتیں کم رکھ کر اپنی مصنوعات فروخت کیں نتیجتاً ہماری انڈسٹری بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ اور ٹیکسوں کی وجہ سے بھارت اور بنگلہ دیش سے پیچھے رہ گئی، اب صورتحال مزید بگڑ چکی ہے کیونکہ ہمارے پاس زرمبادلہ کے ذخائر اتنے نہیں ہیں کہ ہم صنعتوں اور کارخانوں کو بیرون ملک سے خام مال منگوا کر دے سکیں نئی بڑی کمپنیاں اپنے پیداواری یونٹس بند کر چکی ہیں افراط زر کے ساتھ لوگوں کی پریشانیاں اور مصائب بڑھ رہے ہیں حکمران اتحاد اس جانب توجہ نہیں دے رہی مہنگائی بے لگام ہوتی جا رہی ہے اب منی بجٹ کی شنید ہے جس سے سے مہنگائی کے طوفان کا ایک نیا ریلا آئے گا جس سے غریبوں کی زندگیاں اجیرن بن سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں