3

واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک ہونے کے واقعات میں اضافہ

کراچی(بیوروچیف) ایف آئی اے کی جانب سے عوام کو آگاہ کیا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں شہریوں کے واٹس ایپ اکائونٹس ہیک ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق ان واقعات میں سائبر کرمنل خواتین کے واٹس ایپ اکائوئنٹس کو خاص طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ ان کے وٹس ایپ اکائونٹس تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور بعد ازاں ان کی ذاتی معلومات بشمول چیٹ، تصاویر و ویڈیوز کے ذریعے ان کا استحصال کرتے ہیں ۔سائبر کرمنلز واٹس ایپ اکائونٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کے لیے جدید طریقوں کا استعمال کر رہے ہیں، جن میں فشنگ اور سوشل انجینئرنگ شامل ہیں۔ فشنگ کی حکمت عملی اکثر دھوکہ دہی کے پیغامات پر مشتمل ہوتی ہے جو صارفین کو ذاتی معلومات ظاہر کرنے یا بدنیتی پر مبنی لنکس پر کلک کرنے پر مائل کرتی ہیں۔یہ حملے بنیادی طور پر خواتین صارفین کو نشانہ بناتے ہیں جس سے ان کی ذاتی معلومات، تصاویر اور گفتگو تک رسائی حاصل کی جاتی ہے ۔ایف آئی اے کے مطابق سائبر کرمنلز پھر ان ہیک شدہ اکائونٹس کو نامناسب مواد کی اشاعت اور فراڈ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ایف آئی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات کر کے آپ اپنے اکائونٹ کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ایف آئی اے کی جانب سے شہریوں کو بتایا گیا ہے کہ واٹس ایپ سیٹنگز میں ٹو اسٹیپ ویریفکیشن کو فعال کریں۔ ٹو سٹیپ ویریفکیشن ایک اضافی حفاظتی پرت فراہم کرتا ہے جو آپ کے اکائونٹ کو غیر مجاز رسائی سے بچانے میں مدد کر سکتا ہے۔غیر متعلقہ /اجنبی نمبرز کے ذریعہ بھیجے گئے پیغامات یا فوٹوز، ویڈیوز یا فائلز کو اوپن کرنے سے گریز کریں۔ یہ پیغامات اکثر اسپام لنکس یا فائلوں پر مشتمل ہو سکتے ہیں جو آپ کے موبائل فون کو نقصان پہنچا سکتے ہیں یا آپ کے اکائونٹ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اپنی ذاتی معلومات تک رسائی کو محدود کرنے کے لیے اپنی واٹس ایپ پرائیویسی کی سیٹنگز کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور ان کو اپ ڈیٹ کریں۔اگر آپ کا واٹس ایپ اکائونٹ ہیک ہو جائے تو، فوری طور پر ایف کی ہیلپ لائن 1991 پر رابطہ کریں یا قریبی ایف آئی اے سرکل کا وزٹ کریں ۔اپنے اکائونٹ پر کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے اور مناسب حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کرنے کے لیے واٹس ایپ ہیلپ سے رابطہ کریں۔ اپنے اکائونٹ کے ہیک ہونے کی اطلاع اپنے قریبی دوستوں ، خاندان کے افراد اور اپنے ساتھ کام کرنے والے ساتھیوں کو دے دیں تا کہ وہ کسی بھی ممکنہ فراڈ سے بچ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں