55

پاکستان کو درپیش 10بڑے خطرات کی نشاندہی

اسلام آباد (بیوروچیف)ورلڈ اکنامک فورم نے2025تک پاکستان کو درپیش10 بڑے خطرات کی نشاندہی کردی۔ورلڈ اکنامک فورم کی جاری کردہ گلوبل رسک رپورٹ 2023 میں سائبر سیکیورٹی، دہشت گرد حملوں، مہنگائی اور معاشی بحران سمیت پاکستان کو اگلے دو سال میں درپیش 10 بڑے خطرات کا ذکر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان، بھارت اور افغانستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو درپیش علاقائی تنازعات میں پانی کے انفراسٹرکچر کو ہتھیار یا ہدف کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ورلڈ اکنامک فورم نے علاقائی اور ماحولیاتی خطرات کو بھی رسک قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اشیا مہنگی ہونے سے لاکھوں افراد بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔ آبی وسائل کو علاقائی تنازعات میں بطور ہتھیار یا ہدف استعمال کئے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ڈیٹا چوری، سائبرجاسوسی سمیت ڈیجیٹل سیکٹر میں اجارہ داری اور قرضوں کا بحران بھی ٹاپ ٹین خطرات کی فہرست میں شامل ہے۔ عالمی اقتصادی فورم نے عالمی سطح پر جیو اکنامک ٹینشن، انرجی اور فوڈ کرائسز کی بھی نشاندہی کی ہے۔دوسری جانب ورلڈ بینک نے عالمی معاشی اثرات سے متعلق جاری رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب اور سیاسی بے یقینی نے بری طرح متاثر کیا۔ غربت اور مہنگائی میں اضافہ ، پاکستان کو مجبورا آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں سمیت مشکل معاشی حالات کا سامنا ہے، دسمبر 2022 میں مہنگائی کی شرح ساڑھے 24 فیصد رہی جو 1970 کی دہائی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں