170

پاکستان کی تاریخ صحافیوں کے خون سے بھری

تحریر: ملک بلال لطیف
حیات اللہ خان وزیرستان کے علاقے کا ایک نڈر اور بے باک صحافی تھا۔ کہا جاتا ہے اس کی دلیرانہ صحافت کی وجہ سے بیک وقت القاعدہ، طالبان ،پاکستانی اور امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں ‘اس کو اپنا دشمن سمجھتی تھی۔ جہاں طالبان اور القاعد ہ کی وجہ سے امریکہ جیسی سپر پاور کی نیندیں حرام تھی ‘وہاںوہ ان تنظیموں کے گڑھ میںروزانہ چین کی نیند سوتا تھا ۔ مگردسمبر ، 2005 میں ایک ایسا واقع رونما ہوا، جس کو منظر عام لانے کے گناہ کا کفارہ حیات اللہ کو اپنی اور اپنی بیوی کی جان دے کر چکانا پڑا۔ دراصل 2005-6 میںپاکستان کا قبائلی علاقہ (FATA )دنیا کا خطرناک ترین علاقہ شمار کیا جاتا تھا۔ اور حیات کابچپن اور جوانی اسی علاقہ میں گزری تھی ‘جس کی وجہ سے وہ اس علاقہ کے چپے چپے سے واقف تھا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی بین الاقوامی صحافی اس علاقے میں کوریج کو آتا تو وہ بھی اس کی مدد طلب کرتا۔ 9/11کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو طالبان اور القاعدہ کے رہنمائوں کی ایک بڑی تعداد FATA کے علاقوں میں آبسی۔اور حیات نے اپنی صحافیانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ان علاقوں میں طالبان، القاعدہ اور امریکی کاروائیوں کی دیدہ دلیری سے رپورٹنگ کرناشروع کردی’جو کسی قیمت ان کے لیے قابل ہضم نہ تھی۔1 دسمبر ، 2005 کو القاعدہ کے تیسرے بڑے لیڈر ابو حمزہ رابعہ کو امریکہ نے شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ سے ہلاک کر دیا۔ لیکن حکومت پاکستان نے دعوی کیا کہ ابو حمزہ بم بناتے ہوئے ایک حادثہ کا شکار ہوا ہے۔ اور امریکہ نے بھی اس موقف کی حمایت کی۔ مگر حیات قبائلی علاقے سے گہر ی واقفیت کی وجہ سے حادثہ کے مقام پرفوراً جا پہنچا اور وہاں پہنچ کراس نے جب امریکی Hellfire Missileکے ٹکڑوں کو دیکھاتوان کی تصاویر بنالی ۔اور اس کے بعد اس نے سارے واقع کو اردو کے ایک مشہور اخبا ر اوصاف میں شائع کردیا۔ اور ساتھ میں ان تصاویر کو بھی وائرل کر دیا ‘جس سے چند لمحوں میں پورے پاکستان میں ہلچل پھیل گی۔ لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاج کرنا شروع کر دیا ۔جگہ جگہ امریکہ اورحکومت کیخلاف مظاہرے شروع ہوگے۔ کیونکہ International lawکے مطابق کسی بھی ملک پر اس طرح کا حملہ، اسکے عزت وقار اور آزادی پر براہ راست حملہ سمجھا جاتا ہے۔ اور ساتھ یہ UN Charter کے 2(4) Article کی کھلم کھلاخلاف ورزی تھی’ جو کسی بھی ملک کی علاقائی سا لمیت اورخودمختاری کی ضمانت دیتا ہے۔ مگر اس وقت کی حکومت جو امریکہ سے اربوں روپے بٹور رہی تھی’ خاموش رہی۔بلکہ حیات کو اس گستاخی کی پاداش میں پہلے اغواء کیا اور پھر چھ ماہ بعدقتل کرکے اس کی لاش کو شمالی وزیرستان کے ایک علاقے میں پھینک دیا گیا۔ اور یہی نہیں اسکی بیوی جو اس کے بچوں کا واحد سہارا تھی اس کو بھی بم سے اڑا دیا گیا۔ بدقسمتی سے حیات کا کیس تو چلا مگر نہ اس کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر آئی اور نہ ہی مجرموں کا تاحال پتہ چلایا جا سکا۔ افسوس پاکستان کی تاریخ ایسے سینکڑوں صحافیوں کی شہادتوں سے بھری پڑی ہے۔ کل حیات تھا، آج ارشد شریف اور اس کے بعد کوئی دوسرا ہوگا۔میڈیا جس کو کسی بھی ملک کا4th ستون سمجھا جاتا ہے’پاکستان میں حکومت کسی کی بھی ہو اس کو ہمیشہ سنسرشپ کا سامنارہا ہے۔ Reporters without Border کی رواں سال میں جاری ہو نے والی رپورٹ اس بات کا واضح ثبو ت ہے ‘ جس میں پاکستان World Press Freedom Index میں 180 ممالک کی فہرست میں 150 نمبر پر ہے۔ اور اسی کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں سے اب تک سو سے ز ا ئد صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے ۔ یہی نہیں Internation Amnesty بلوچستان کے ایک شہر خضدار کو “Graveyard for Journalist” قرار دے چکی ہے۔ حالانکہ 1973ء کے آ ئین کا 19 Article ہر پاکستانی شہری کو ا ظہا ر رائے کی آزادی دیتا ہے۔ لیکن یہاں تو صحافی جو کسی بھی معاشرے کی آنکھ اور زبان سمجھے جاتے ہیں’جن کے بغیر جمہوریت کا پنپنااور قانون کی حکمرانی نا ممکن ہے ان کیلئے کوئی گنجائش نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں