30

پشاور دھماکہ’پولیس ٹھوس شواہد حاصل کرنے میں ناکام

اسلام آباد(بیوروچیف)پشاور پولیس لائن کی مسجد میں خود کش بم دھماکے میں100سے زائد شہادتوں اور60سے زائد افراد کے زخمی ہونے کے واقعہ نے قانون نافذ کرنے والے اور پالیسی بنانے والے اداروں کو زمینی حقائق کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل بنیادوں کو بھی سامنے رکھنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ابھی تک کے پی کے پولیس حکام کی طرف سے خود کش قرار دیئے گئے دھماکے سے مسجد کے ستون، دیواراور چھت گرنے کی تو جیح پیش نہیں کی جاسکی ۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ خود کش دھماکے سے ستون اور دیواریں نہیں گرتیں اور دس کلو دھماکہ خیز مواد لے جانے والا شخص اگر پولیس کے درجنوں اہلکاروں کو بھی چکمہ دے کر شریک نماز ہو گیا تو دھماکہ اس مسجد کا مقدر بن چکا تھا کیونکہ ہر وقت شبہ کی تربیت ہی پولیس کی پہلی ذمہ داری ہے ۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کے پی کے پولیس کے شہدا کو شہید پیکج دینے کیلئے دو ارب روپے تو فوری درکار ہوں گے جبکہ دو کروڑ روپے ہر ماہ درکار ہوں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں