35

پنشن اخراجات609 ارب تک جا پہنچے

اسلام آباد(بیوروچیف)وفاقی حکومت کا پینشن بل609ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ گھوسٹ پنشنرزکا مسئلہ حل نہ ہوسکا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ وفاقی حکومت کا پنشن بل609ارب روپے تک پہنچ چکا ہے ،جبکہ گھوسٹ پنشنرزکا مسئلہ تاحال حل نہیں ہو سکا ہے۔وزارت خزانہ کے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ 9لاکھ 49 ہزارپنشنرزکو تاحال مینوئل طریقے سے پینشن کی ادائیگی جاری ہے ، جن میں6 ہزار 600 سو سے زائد گھوسٹ پنشنرزبھی شامل ہیں۔حکام کے مطابق 32 لاکھ 38 ہزارپنشنرزمیں سے 22 لاکھ 90 ہزار ڈائریکٹ کریڈٹ اسکیم پرمنتقل ہوچکے ہیں اورسول پنشنرز90 فیصد، ملٹری پنشنرز41 فیصد براہ راست بینک اکانٹ میں پینشن لیتے ہیں۔پنجاب، سندھ اورخیبرپختونخوا میں 100 فیصد پنشنرزکو بینک اکانٹ میں ادائیگیاں کی جارہی ہیں، بلوچستان میں 93 فیصد پنشنرزکو ڈی سی ایس اسکیم پرمنتقل کردیاگیا۔وزرات خزانہ کے حکام کے مطابق پینشن کی ادائیگی 100 فیصد ڈی سی ایس سسٹم پرمنتقلی کیلئیایک سال درکار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں