17

گوجرہ کے عوام ریلیف کیلئے پریشان

تحریر؛تنویرحسین
گوجرہ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاںکمی کے باوجود عوام کوریلیف نہ مل سکا۔حکومتی احکامات نظر انداز کر دئیے گئے ۔انتظامیہ عمل درآمد نہ کرواسکی جس کی وجہ سے مصنوعی مہنگائی کا جن بے قابو ہو چکاہے۔ مہنگائی کے ستائے غریب عوام پس کر رہ گئے ہیں۔دکاندار من مرضی کے ریٹس پر اشیائے خوردونوش کی فروخت جاری رکھے ہو ئے ہیں۔پرائس کنٹرول کمیٹیاں بھی منظر سے غائب ہیںجس سے گرانفروشوںکو کھلی چھٹی ملی ہو ئی ہے۔پٹرولیم کی قیمتوں میں واضح کمی کے باوجود ٹرانسپورٹرزنے بھی کرایوں میں کمی نہ کی اور دیدہ دلیری سے من مرضی کے کرایوں کی وصول کا عمل شروع کر رکھاہے۔گوجرہ میں سگریٹ فروشوں نے قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کر کے لوٹ مار کا بازار گرم کر دیا۔ دکانداروں نے مختلف برانڈزکے سگریٹ کی قیمتوں میں تقریبادو ہفتے سے از خود اضافہ کر کے مہنگے داموں سگریٹ کی فروخت شروع کر رکھی ہے جس پرخریدار سراپا احتجاج بنے ہو ئے ہیں۔ دکانداروں اور خریداروں میںلڑائی جھگڑے کے واقعات معمول بنے ہو ئے ہیں جبکہ انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہو ئی ہے ۔ گوجرہ شہر و گردو نوا ح میں جعلی مشروبا ت فروخت کرنے والا مافیا سرگرم ہے۔ بازارو ں اور گلی محلو ں میں جعلی مشروبات فروخت کرنے والے دیدہ دلیری سے معصوم شہریو ں کی زندگیو ں سے کھیل رہے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ گلیوں محلوں میں قلفیا ں فروخت کرنے والے بھی مبینہ طور پرکیمیکل سے تیا ر کردہ قلفیاں فروخت کر رہے ہیں جس سے بچو ں میں گلے کی بیماریوں سمیت موذی امرا ض پھیل رہے ہیں۔ گوشت کی قیمتوں میںکمی کے باوجود ہوٹلوں،بیکریوں اورشوارما سنٹروں سمیت دیگرمقامات پر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔صفائی ستھرائی کا نظام بھی انتہائی خراب نظر آرہاہے۔ غیر معیاری اشیاء کی فروخت کی روک تھام کیلئے فوڈ کنٹرل اتھا رٹی سمیت متعلقہ انتظا میہ کی طرف سے کو ئی کارروائی نظر نہیں آ رہی۔ تحصیل ہیڈ کوارٹرہسپتال گوجرہ میں انسولین کی دستیابی مشکل ترین ہو چکی ہے موذی مرض شوگر میں مبتلامریضوں کو انسولین کے حصول کیلئے کئی کئی روز تک چکر لگانے پڑتے ہیں۔ شوگر کے مریض درودراز سے انسو لین کے حصول کیلئے سفرکرکے ہسپتال پہنچتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ انسو لین ختم ہو چکی ہے ۔قابل زکر امر یہ ہے کہ ہسپتال میں انسولین لینے کیلئے صرف وہ مریض پہنچتے ہیں جو بازار سے مہنگے داموں انسولین کی خریداری کی سکت نہیں رکھتے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر انسولین کی کمی کو پوراکر کے تحصیل ہیڈ کوارٹر گوجرہ میں وافر مقدارمیںفراہم کی جائے تاکہ مریضوں کے لئے بروقت انسو لین کی دستیابی میں آسانی پیدا ہو سکے اور ان کی جانوں کو بچایا جاسکے۔گوجرہ میں مچھروں کی بہتات نے عوام کاسکھ چین چھین رکھاہے جبکہ میونسپل کمیٹی کی جانب سے موسمی تبدیلی کے ساتھ ہی گلیوں محلوں اور بازاروں میںمچھر مار سپرے کا چھڑکائوکیاجاتا تھاجس سے مچھروں کی بہتات میںنمایاں کمی واقع ہو جاتی تھی مگر موسمی تبدیلی پر ارباب اختیار کی جانب سے مچھروں کے خاتمہ کیلئے کسی قسم کے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے شہر بھر میں آوارہ کتوں کی بھرمار نے عوام کا جینا دوبھرکر دیاہے۔ بازاروں گلیوں اور محلوں میں گھومنے والے آوارہ کتوںکی وجہ سے لوگوں میں شدید خوف وہراس پھیلا ہو اہے جس کی وجہ سے شہری اپنے معصوم بچوں کو بھی گھر وں میں بند رکھنے پر مجبور ہوچکے ہیں ۔شہربھر میں قائم ہو نے والی تجاوزات شہریوں کیلئے درد سر بنی ہوئی ہے۔ جس نے شہر کا حسن تباہ کر رکھا ہے۔ دکانداروں نے اپنا سامان دکانوں سے باہرکئی کئی فٹ تک پھیلا کر شہرمیں خریداری کیلئے آنیوالوں کے لئے مشکلات پیدا کر رکھی ہیں ۔ جبکہ جگہ جگہ رکشہ سٹینڈ بن چکے ہیں بازاروں میں کھڑے رکشے اور ریڑھیاں ٹریفک کی روانی کو بری طرح سے متاثر کر رہے ہیں ۔انتظامیہ کی جانب سے بازاروں میں بہتری لانے کیلئے بازاروں کے کارنرزپر سنگل لگائے گئے تھے جن کا خاطر خواہ کوئی فائدہ نہ ہو سکااور صوتحال پہلے سے زیادہ بگڑچکی ہے۔ عوامی حلقوںنے وزیر اعلی پنجاب مریم نوازشریف سمیت دیگر ارباب اختیار سے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے مقررہ قیمتوں کے مطابق عمل درآمد کروانے اور درپیش مسائل کو حل کر نیکا مطالبہ کیاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں