28

گیس کا بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ

اسلام آباد(بیوروچیف)وزارت توانائی کے سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ اگلے ماہ فروری میں گیس کا بحران مزید سنگین ہونے کا امکان ہے۔ جیساکہ ای این آئی، ایل این جی ٹریدنگ کمپنی ایل این جی کارگو کی فراہمی سے پیچھے ہٹ گئی ہے جو 6-7فروری 2023کو آنا تھا۔ گیس خسارہ بڑھ جائے گا جیساکہ درآمدی ایل این جی 700ایم ایم سی ایف ڈی تک کم ہو جائے گی جیسا کہ قطر کیساتھ جی ٹی جی معاہدوں کے تحت برینٹ کے 13.37فیصد کی قیمت پر پانچ کارگوز اور برینٹ کے 10.2 فیصد پر 2 کارگوز صرف فروری میں دستیاب ہوں گے اور فروری کے مہینے میں 12.14 فیصد کی لاگت پر ای این آئی سے کوئی ایل این جی کارگو نہیں ہوگا اور اس سے ملک میں گیس کا بحران بڑھے گا۔ پی ایل ایل کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی کہ ای این آئی انتظامیہ نے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل)کو اپنی مواصلت میں کہا کہ وہ ایل این جی کارگو فراہم نہیں کر سکے گی جو 6-7 فروری کو آنا تھا۔ اسپاٹ ایل این جی کی قیمت فی ایم ایم بی ٹی یو فی الحال 25-27 ڈالرزکے لگ بھگ ہے۔ رابطہ کرنے پر ای این آئی کے ترجمان نے بھی اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فروری کی ترسیل میں خلل ای این آئی کے معقول کنٹرول سے باہر ہے اور ناگزیر صورتحال کی وجہ سے ہے۔ ای این آئی صورتحال سے کسی بھی طرح سے فائدہ نہیں اٹھاتی۔ سینئر عہدیدار کے مطابق ای این آئی 2022 میں پانچ بار ڈیفالٹ ہوئی جیساکہ یہ مارچ، مئی، جولائی، ستمبر اور نومبر کے مہینوں میں ایل این جی کارگو فراہم کرنے میں ناکام رہی اور سال 2023 میں یہ پہلا موقع ہے جب ای این آئی نے ایل این جی کارگو فراہم کرنے سے پیچھے ہٹ گئی جو 6-7 فروری کو ڈیلیور ہونا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں