6

آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے پاکستان کے ہاتھ بندھے ہیں،وزیر تجارت

اسلام آباد (بیورو چیف)وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہاہے کہ آئی ایم ایف پروگر ا م کی وجہ سے پاکستان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں،عالمی مالیاتی ادارہ مختلف شعبوں کو ریلیف دینے کیلئے ٹیکس ریونیو میں اضافے کا مطالبہ کرتا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تجارتکا اجلاس سینیٹر انوشہ رحمان کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آئی ایم ایف کہتا تمام شعبوں کے ساتھ یکساں سلوک کریں، کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئی ایم ایف کو خصوصی اقتصادی زونز پر بھی اعتراض ہے، آئی ایم ایف کہتا ہے سبسڈی اس وقت دیں جب ریونیو میں اضافہ ہو۔ جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان میں 95فیصد طبقے کو فنانسنگ کی سہولت دستیاب نہیں ہیں۔وزارت تجارت کے حکام نے امید ظاہر کی کہ جون تک پالیسی ریٹ سنگل ڈیجٹ پر آجائے گا، قائمہ کمیٹی نے انکم ٹیکس ریٹ میں بھی ریلیف دینے کی سفارش کر دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ایران کے ساتھ اس وقت دو طرفہ تجارت کا حجم تین ارب بارہ کروڑ ڈالر ہے۔دو ارب 42کروڑ ڈالر کی مصنوعات درآمد جبکہ 70کروڑ ڈالر کی برآمدا ت کی جاتی ہیں ۔کمیٹی نے یران کے ساتھ تجارت میں آسانی سے متعلق ایس آر او پر عمل نہ ہونے پر اظہار برہمی کیا ۔ کمیٹی ارکان کنے چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کو طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔طلحہ محمود بولے ایف بی آر اس وقت منگولوں والا کردار ادا کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں