آدھا شہر ،متعدد تعلیمی ادارے بند،کرکٹ میچز کیلئے ”مس مینجمنٹ ”کھل کر سامنے آگئی

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان اور جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان تین ون ڈے میچز پر مشتمل کرکٹ سیریز اقبال سٹیڈیم فیصل آباد میں کھیلی جا رہی ہے جس کا پہلا میچ کل بروز منگل کھیلا گیا، اگلے دو میچز 6 نومبر اور آٹھ نومبر کو ہونگے، اس حوالے سے شہریوں میں جوش وخروش پایا جا رہا ہے اور شائقین کرکٹ نے 17سال بعد فیصل آباد میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی پر بڑی خوشی کا اظہار کیا ہے، دوسری جانب ضلعی انتظامیہ’ پولیس حکام اور ٹریفک پولیس کی نااہلی کھل کر سامنے آ گئی ہے، کرکٹ میچ کیلئے آدھے شہر اور متعدد تعلیمی اداروں کو بند کرنا کونسی مینجمنٹ ہے بلکہ اسے ”مس مینجمنٹ” کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دونوں کرکٹ ٹیموں کی حفاظت کیلئے تمام ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور اقدامات اٹھانے چاہئیں اور اگر اس مقصد کے لیے مناسب حکمت عملی طے کی جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا، آدھا شہر بند کرنے سے تو یہ بہتر ہوتا کہ کرکٹ ٹیموں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اقبال سٹیڈیم یا سرینا ہوٹل پہنچا دیا جاتا، ریس کورس گرائونڈ میں ہیلی پیڈ موجود ہے جبکہ سرینا ہوٹل’ بوہڑاں والی گرائونڈ اور اقبال سٹیڈیم کے باہر بھی ہیلی پیڈ بنایا جا سکتا تھا، مگر ایسا کرنیکی بجائے آدھے شہر اور متعدد تعلیمی اداروں کو بند کر دیا گیا، کئی لوگوں کی گاڑیاں بند کی گئیں جسے ضلعی انتظامیہ’ پولیس حکام اور ٹریفک پولیس کی ”مس مینجمنٹ” کہا جا رہا ہے تو تعجب کی بات نہیں، شہریوں کو اگر اس سے پریشانی ہو گی تو وہ اسے مس مینجمنٹ ہی کہیں گے۔ کرکٹ میچز کا انعقاد فیصل آباد کے لیے تاریخی موقع ہے مگر سکیورٹی کے نام پر لوگوں کی زندگی عذاب بنا دی گئی ہے، آدھے شہر کو بند کر کے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ہماری سکیورٹی شاندار ہے، دنیا کے دیگر شہروں حتیٰ کہ لاہور اور راولپنڈی میں جب ٹیم گزرتی ہے تو راستے بند کئے جاتے ہیں مگر ٹیم کے گرائونڈ میں پہنچنے کے بعد کھول دیئے جاتے ہیں مگر فیصل آباد میں راستوں کو مسلسل بند رکھا گیا ہے۔ اہلیان فیصل آباد اپنے شہر میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی پر خوش ہیں مگر ناقص انتظامات نے ان کی خوشیاں پھیکی کر دی ہیں اور شہریوں کو یہ کہتے سنا جا رہا ہے کہ اس سے تو یہ بہتر تھا کہ جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم سے دوبئی میں میچز کھیل لئے جاتے’ اہلیان فیصل آباد کا کہنا ہے کہ مہمان ٹیم کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے اور اس مقصد کے لئے تمام ادارے مل بیٹھ کر غور وفکر کریں اور بہترین حکمت عملی طے کر کے اس پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں