ائیر کنڈیشنڈ کی ضرورت ختم کرنیوالا پینٹ تیار کرلیا گیا

کراچی ( بیو رو چیف )سائنسدانوں نے ائیر کنڈیشنر کی ضرورت ختم کرنیوالے ایک پینٹ کو تیار کیا ہے۔چھتوں پر استعمال ہونے والا یہ پینٹ اردگرد کے درجہ حرارت کے مقابلے میں چھت کی سطح کے درجہ حرارت کو 6 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کر دیتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ پینٹ فضا سے پانی کو بھی کھینچتا ہے جس سے شدید گرم موسم کے دوران گھر کے اندر کا درجہ حرارت نمایاں حد تک گھٹ جاتا ہے۔خیال رہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہیٹ ویوز کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور وہ زیادہ جان لیوا ثابت ہو رہی ہیں اور زیادہ خرچے کے باعث ائیر کنڈیشنر کا استعمال ہر فرد کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔سوراخ والی ایک فلم کے ذریعے بننے والے پینٹ سے چھتوں کو رنگا جاتا ہے اور یہ 96 فیصد سولر ریڈی ایشن کو واپس فضا میں پلٹا دیتا ہے۔پینٹ کی یہ کوٹنگ موثر انداز سے باہر موجود حرارت کو منتشر کرتی ہے۔آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بتایا کہ یہ پینٹ دن کے وقت جب سورج نکلا ہوا ہوتا ہے، اس وقت آپ کی چھت کو اردگرد کے ماحول کے مقابلے میں زیادہ ٹھنڈا رکھتا ہے۔پینٹ کی سطح کی ٹھنڈک سے فضا میں موجود بخارات سطح پر اکٹھے ہو جاتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے رات کو گاڑی پر شبنم کے قطرے جم جاتے ہیں۔سائنسدانوں کے مطابق پینٹ کم از کم کئی گھنٹوں تک فضا میں موجود شبنم کو اپنے اندر کھینچ سکتا ہے۔تحقیق کے دوران ماہرین نے سڈنی نانو سائنس ہب کی چھت پر 6 ماہ کے لیے اس پینٹ کو لگا کر رکھا۔پینٹ کے ساتھ الٹرا وائلٹ کے خلاف مزاحمت کرنے والی کوٹنگ کو بھی استعمال کیا گیا تاکہ شبنم کے قطرے بہہ کر ایک برتن میں جمع ہوسکیں۔4 ماہ کے دوران سائنسدانوں نے روزانہ 390 ملی لیٹر فی اسکوائر میٹر پانی اکٹھا کیا اور ان کا تخمینہ ہے کہ آسٹریلیا میں ایک اوسط چھت سے روزانہ 70 لیٹر تک پانی جمع کیا جاسکتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق اس پینٹ کو ایسے مقامات کی عمارات پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں زیرزمین پانی نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق اس پینٹ کو کسی عام پینٹ کی طرح چھتوں کو رنگنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں