اب ترقی کرے گا سیالکوٹ

سیالکوٹ ایک بین الاقوامی شہرت کا حامل شہر ہے – ہر حکومت نے اس کو ترقی دینے کے لیے انتھک محنت کی اور جوجو وہ کر سکی کر گزری ۔ یہاں کے سابقہ نمائندوں نے بھی سیالکوٹ کی ترقی میں مقدور بھر حصہ ڈالا ۔ مگر سابقہ حکومتیں ہوں یا عوامی نمائندے یا پھر سیالکوٹ کے انتظامی عہدیدار سب سیالکوٹ کو ترقی دلانے میں ناکام رہے اور یہی حسرت ان سب کو لے ڈوبی – انہیں سمجھ نہیں آئی کہ ان کی کوششیں کیوں رنگ نہ لا ئیں ۔ کہتے ہیں کہ مایوسی گناہ ہے ، اہل سیالکوٹ کو خوشخبری ہو کہ اب پتہ چلا لیا گیا ہے کہ سیالکوٹ کیوں ترقی نہیں کرسکا اور یہ سارا کریڈٹ سیالکوٹ کے موجودہ عوامی نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ کو جاتا ہے ، جیسے ہی پتہ چلا ہے کہ تو دونوں ہی متحرک ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے وہ پولیس کے جوانوں کو ڈسپلن اور نظم وضبط سکھانے والی پریڈ گرائونڈ کو پولیس سے چھین کر کامیاب تجربہ کر چکے ہیں۔ مزید احساس ذمہ داری اور ترقی یافتہ سیالکوٹ کی امید کی کرن نے ان کے چہروں کو روشن اور عزم کو پرجوش کردیا ہے ۔ نئے انتظامات شروع کر دئیے گئے ہیں ، سیالکوٹ کے سرکاری دفاتر، افسروں کے گھروں ، احاطہ کچہری اور ڈی سی آفس وہائوس پر مشتمل نئے ڈسٹرکٹ کمپلیکس کی تعمیر کی تجویز پیش کردی گئی ہے ۔ خاتون ڈپٹی کمشنر آئے دن بغیر اطلاع مردوں کی ٹیمیں لے کر جائزہ لینے جا پہنچتی ہیں کہ چادر اور چاردیواری کا تحفظ اس سے بڑھ کر اور کیسے کیا جا سکتا ہے ؟ ویسے تو سارے ضلع کی زمین اس عظیم الشان کام کے لیے اپنے آپ کو پیش کرنے کو بے چین تھی مگر یہ لاڈلا کمپلیکس کیونکہ ہر جگہ تعمیر نہیں ہوسکتا اس لیے سب زمینوں پر لات ماتے ہوئے سیالکوٹ کی واحد سرکاری وومن یونیورسٹی کی امام بی بی کیمپس کی زمین کا انتخاب ہوا ہے جس کی قسمت جاگ اٹھی ہے۔ کیونکہ وہی اس امتحان میں پوری اتری ہے لہٰذا اب ڈسٹرکٹ کمپلیکس یہاں تعمیر ہو گا۔ سیالکوٹ کی طالبات، یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی اساتذہ اور ہئر ایجوکیشن کمیشن اپنی قسمت پر جتنا بھی ناز کریں کم ہے کہ پسلی پھڑک اٹھی ہے رگ انتخاب کی۔ وہاں یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹس اور علم وتحقیق کے مراکز کی بجائے دفاتر بنیں گے ، رونقیں لگیں گی ، رشوتیں چلیں گی ، سودے بازیاں ہوں گی ، ضمیروں کا کاروبار ہوگا ۔ وہاں سے فیکٹریوں پر یلغار کرنے والے ، عمارتوں کو مسمار کرنے والے ، غریبوں کی ریڑھیوں کو الٹ کر طاقت کا مظاہرہ کرنے والے اور ناجائز فروشی کو تحفظ دینے والی جتھے نکلا کریں گے تو سیالکوٹ ترقی کر جائے گا ۔ یوں قانون کی حکمرانی کا خواب دیکھنے والوں پر حکمرانوں کا قانون نافذ ہوگا ۔ اس کی جگہ اگر وہاں یونیورسٹی بن جاتی اور آج کی بیٹیاں اور کل کی مائیں وہاں سے پڑھ لکھ کر کچھ سیکھ سکھا جاتیں تو کتنا بڑا نقصان ہو جانا تھا معاشرے کا۔ تعلیم سے کوئی فرق پڑنے والا ہوتا تو حکمران کو کیا تھا کہ اس طرف توجہ نہ کرتے ، وسائل کے اس ضیاع کو روک دینے پر پیشگی مبارک باد تو بنتی ہے جو ضلعی انتظامیہ اور عوامی نمائندے ایک دوسرے کو دے رہے ہیں ، کچھ خبطی قانون دان توجہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی طرف دلا رہے ہیں کہ تعلیمی اداروں کی زمین کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں ہوسکتی اور خریدکی بجائے حاصل کردہ زمین کو اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے نہیں استعمال کیا جاسکتا جس مقصد کے لیے اسے حاصل کیا گیا ہو – اس صورت میں اسے مالکوں کو واپس کرنا پڑتا ہے مگر ان لکیر کے فقیروں کو کیا معلوم کہ آپ کن فیصلوں کی بات کر رہے اب تو خود عدالت عالیہ کو اپنی پرواہ بھی نہیں کہ مدت گزری وہ دامتہ برکات عالیہ ہو چکی ہے ۔ اس منصوبہ میں کیڑے نکالنے والو کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے ۔ تعلیم نے پہلے سیالکوٹ کو کیا دیا تھا اور علامہ اقبال کی وجہ سے سیالکوٹ کو کیا ملا تھا جو ان کے مصرعے ”وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ ” کو عزت دے کر ان کی والدہ کے نام سے منسوب امام بی بی کیمپس میں بچیوں کو زیر تعلیم سے آراستہ ہونے کا موقع دیا جائے۔ کیوں نہ اس جگہ کا بہترین استعمال کر کے سیالکوٹ کی ترقی کے خواب بننے والے اور سیالکوٹ کے عوامی نمائندوں کے سامنے دمیں ہلانے والے افسروں کے دفاتر اور رہائش گاہیں بنا کر انہیں پرسکون ماحول دیا جائے تاکہ وہ کاسہ لیسی میں ید طولا حاصل کر سکیں۔ جی سی وومن یونیورسٹی کی تیرہ ہزار طالبات نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ یہ نیک کام ایک خاتون ڈپٹی کمشنر کے ہاتھوں سرانجام پائے گا اس لیے وہ زیادہ آرام دہ، آسودہ، خوشگوار اور سہولت بخش محسوس کررہی ہیں کہ اپنا مارتا ہے تو چھائوں میں تو بٹھاتا ہے وہ کہتی ہیں کہ اگر کوئی مرد ڈپٹی کمشنر ہوتا تو بقیہ 60ایکڑ زمین بھی چھین لیتا ۔ یہ تو شکر ہے خاتون ڈپٹی کمشنر ہے اس لیے سخاوت کا مظاہرہ کرر ہی ہیں ۔ سنا ہے کہ اس شاندار کارنامے پر سیالکوٹ کے عوامی نمائندے اتنے خوش ہیں کہ وصیت کر رہے ہیں کہ مرنے کے بعد ان کے مزار مبارک بھی اسی ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں بنائے جائیں تاکہ مرنے کے بعد بھی انہیں ہتھکڑیوں کی جھنکار اور مجرموں کی ہا ہو سکون دیتی رہے ۔ لوگ بھی نہیں بھولیں گے کہ سیالکوٹ کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے دور کی یہ کوڑی کون لایا تھا اور کرامات سے بھرپور ان کے مرقع انوار مزاروں کی دیکھ بھال کے لیے ضلعی انتظامیہ کی شکل میں ہمہ وقتی مجاور بھی دستیاب ہو جائیں گے ، رہے اہل سیالکوٹ تو وہ فٹبال ایکسپورٹ کرتے رہیں گے اور اپنے ان لقموں کے لقمان نمائندوں پر دادوتحسین کے پھول نچھاور کرتے رہیں گے ۔ آئیے اپنے ان عوامی نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ کو جھولیاں اٹھا اٹھا کر دعائیں دیں ،آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں