”اخوان بیٹھک ”

یہ نصف صدی کا قصہ ھے
دو چار برس کی بات نہیں
میں نے ابتدائی تعلیم حضرت مولانا تاج محمود ختم نبوت مرکز جامعہ مسجد ریلوے کالونی فیصل آباد کے قائم کردہ سکول طارق مسلم پرائمری سکول جناح کالونی سے حاصل کی اسی دوران سب سے پہلے جس شخصیت کے قرآن و درس قرآن کی آواز میرے کانوں میں دین اسلام کا رس گھول گئی وہ میرے والد محترم کے مربی و محسن شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان اعوان نور اللہ مرقدہ کے درس قرآن کی خوبصورت آواز اور دلنشیں اسکی تشریح تھی جو وہ سنہری مسجد فیصل آباد میں اکثر فجر کی نماز کے بعد لائوڈ اسپیکر میں دیا کرتے تھے میرے والد محترم کو دین اسلام کی تعلیمات سے روشناس کروانے کا ذریعہ سن 54 سے یقینا شیخ القرآن رحمہ اللہ ہی ہیں اللہم اغفر لہ وارحمہ گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول جناح کالونی میں تعلیم حاصل کی اور وہاں سے ڈگری کالج پھر پنجاب یونیورسٹی لاھور سے سند لی مدارس عربیہ کی تعلیم کا سفر حضرت مولانا مفتی زین العابدین رحمہ اللہ کے گلشن دارالعلوم فیصل آباد سے اپنے والد کے محب و مربی شیخ حضرت مولانا محمد یوسف بنوری بانی و صدر جامعہ علوم الاسلامیہ بنوری ٹائون کراچی تک کا تعلیمی سفر ہوا پھر سن 03 میں حج بیت اللہ کی سعادت کے سفر سے میرے اللہ تعالی نے میرے لیے بلاد یورپ و ایشیا ؛ بلاد عرب و عجم درگاہ رائے پور سے لیکر درگاہ نظام الدین اولیا رحمہ اللہ کے مزارات کی حاضری جامعہ عبد اللہ بن مسعود فیصل آباد میں موجودہ بڑی شخصیت حضرت مولانا فضل الرحمن اور حضرت مولانا سمیع الحق رحمہ اللہ سے لیکر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ اور خواجہ خان محمد رحمہ اللہ ڈاکٹر مولانا حبیب اللہ مختار و مفتی نظام الدین شامزئی شھید سے حضرت مولانا انظر شاہ رحمہ اللہ شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا سعید خان مدینہ منورہ رحمہ اللہ سے داعی الی اللہ حاجی عبد الوھاب رحمہ اللہ امیر تبلیغی جماعت رائے ونڈ جیسے بہت بڑے بڑے اکابر نے میرے والد رحمہ اللہ کے گلشن جامعہ عبد اللہ بن مسعود فیصل آباد میں تشریف لا کر مجھ پہ دست شفقت رکھا یہ میرے لیے میرے والدین کریمین رحمہ اللہ اپنے سب اکابرین واساتذہ کرام کی دعائوں کا سایہ ہی ھے کہ اب بھی میرے اسلامیہ ہائی اسکول کے اساتذہ میں مولانا عبدالرشید ارشد رحمہ اللہ اور میرے اردو کے استاذ حضرت مولانا صادق صدیقی دامت برکاتہم العالیہ منتظم اعلی مدرسہ اشاعت العلوم کچہری بازار فیصل آباد جیسی شخصیت سے تعلیم کا ثمر ہی ہے کہ تقریباً سال قبل جامعہ میں جماعت اسلامی کے منتخب امیر پروفیسر محبوب الزمان بٹ بھی محترم ریاض سعدی کے ہمراہ تشریف لائے اور خدمت کا موقع دیا ایک سال قبل جمعیت طلبہ عربیہ کے منتظم اعلی مولانا افضل دامت برکاتہم العالیہ اپنی جمعیت طلبہ عربیہ کے ذمہ داران کے ساتھ تشریف لائے جس میں ہمارے پیارے دوست بھائی ساجد علی بن مولانا انور رحمہ اللہ بھی شامل تھے بھائی ساجد علی مولانا ابوبکر کے ہمراہ اکثر ملتے ہی رھتے ہیں محترم حافظ عبد الحسیب نے سابقین طلبہ کی اخوان بیٹھک میں شرکت کی دعوت دی جو میرے لیے سعادت ہے اور اسی تسلسل کی کڑی ھے جو ختم نبوت کی عظیم شخصیت حضرت مولانا تاج محمود رحمہ اللہ کے طارق مسلم سکول سے شروع ھوا آج کی نشست ”اخوان بیٹھک” بھی اسی سلسلہ تسلسل کی کڑی ھے دعوت نامہ میں موجود خوبصورت عنوان سے گفتگو ختم کرتا ھوں یہ نصف صدی کا قصہ ھے دو چار برس کی بات نہیں اخوان بیٹھک میں آنے والے تمام سابقین ڈویژن فیصل آباد کو دل کی گہرائیوں سے اھلا وسھلا ومرحبا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں