اسرائیلی فرعونیت… لمحہ فکریہ

میرے لیے تخت بچھا ایک کربناک آواز آئی، جونہی تخت لگا تو تکبرورعونت کے لباس میں ملبوس ایک شخص نے نمردار ہوتے ہی حکم جاری کیا کہ تمام لوگ میرے دربار میں حاضر ہوں۔ طاقت ومکاری اور ظلم سے پر لہجے کا یہ حکم نامہ جو نہی فضا ئے مصر میں پھیلا تو اطراف و اکناف کے لوگ ہیبت و خوف سے بے بسی کی تصویر پر بنے جمع ہو گئے۔ بادشاہ پھر گرج دار لہجے میں یوں گویا ہواکہ سب میری لامحدودسلطنت کے سامنے سرتسلیم خم کرو۔ جائز وناجائز حق و باطل کی تفریق کی بجائے میری غلامی کا طوق گلے میں ڈال لو یہ محض دھمکی نہیں تھی بلکہ بادشاہ کا غضبناک لہجہ اس کے حکم عدو لی پر وعید کی حقیقت کو عیاں کر رہا تھا۔ طاقت و مکاری اور خود ساختہ ظا لمانہ قوانین پر مبنی وہ اس سلطنت پر برسوں راج کرتا رہا۔ بالآخر جونہی ایک رات اس نے خواب میں سب کچھ تباہ ہوتے دیکھا تو علی الصبح نجومیوں سے تعبیر پوچھی تو انہوں نے کہا عنقریب ایسا بچہ پیدا ہوگا جو تیری سلطنت کے سورج کو ہمیشہ کیلئے غروب کر دے گا۔ یہ سنتے ہی بادشاہ تلملا اٹھااور انسانی تاریخ کا سب سے خوفناک وسفا کانہ حکم دیا، جا تمام بچوں کو قتل کر دو۔ معصوم بچوں کے قتل عام کا سلسلہ جاری رہا ،حتی کہ با اختلاف روایات بارہ سے ستر ہزار معصوم پھولوں کو کچل دیاگیا۔ مگر قدرت کا کر شمہ یہ ہوا کہ مظلوموں کیلئے امید کی کرن اورنجومیوں کی تعبیربن کروہی طفل نورظالم بادشا ہ کی رحمدل بیوی آسیہ کی گود میں آکر امن وہدایت بن کر چمکا۔ اسکی آمد کے وقت فرعونی جارحیت و دہشتگردی کے دور عروج میں تین نظریات کے حامل تین گروہوں نے جنم لیا۔
پہلا وحشیانہ سفا کیت دیکھ کر قلبی مذمت کے ساتھ کوفیانہ روش پر مبنی ۔دوسرا حق بات پہ کٹتی ہے تو کٹ جائے زباں میری کا مصداق۔ اور تیسرا گروہ ذاتی مفادات کے پیش نظر ظالمانہ اقدامات کو خوب سراہنے کی روش پرمبنی۔
بادشاہ وقت کی تیغ جفا دوسرے گرو ہ پر چلی تو ان میں سے سوائے چند افراد کے سب کو تہس نہس کر دیا گیا۔اس کے بعد لہو کی پیاسی شمشیر بے نیام پہلے گروہ پر بجلی بن کر گری اورانکا نام و نشان تک مٹا دیا گیا۔تیسرا اتحادی گروہ ہمیشہ قائم و لافانی زعم باطل میں مبتلا رقص و سرور کی محافل میں مست بے خود ہو رہا تھا۔ اتنے میں وہی طفل نور گروہ ثانی کے ان چند متلاشیان حق وصداقت کو لیے قوت باطلہ کے برج کبیر سے جا ٹکرایا ۔حق وباطل میں تغیرات عروج زوال کا قصہ فتح حق کے ساتھ بالآخر یوں تمام ہوا کہ رات کے پچھلے پہر میں قافلہ حق جونہی بحر قلزم سے گزرنے لگا تو معبود حق سے عمدا نا بلد دعوائے معبود لیے اتحادی گروہ سمیت بادشاہ تعاقب موسی بحر قلزم میں کود پڑا۔ اور وہم ابدی میں مستغرق طبقہ ثلاثہ سمیت غرق ہو گیا۔ آج بھی وہ انجام ظلم کا پیغام لیے مجسمہ عبرت بنے عجائبات مصر میں فرعون کے نام سے دیکھا جا سکتا ہے۔ مگر افسوس اسرائیل پہلو میں لیے ہوئے اس عبرت انگیز مجسمہ سے سبق لینے کی بجائے قصدا اسی کردار کو دہرا رہا ہے۔ عارضی جنگ بندی کے بعد اسرائیلی جارحیت کا خوفناک منظر کس نے نہیں دیکھا۔کیمپوں ،ہسپتالوں ، مساجد اور گر جہ گھروں کو بھی نہیں بخشا گیا۔
افسوس انسانی ہمدردی اور امن وآشتی کے علمبردار آج ان کے اتحادی بن کر دہشتگردانہ فعل پر نہال ہیں۔ ایک بار پھر آج فلسطین میں فرعونی تا ریخ دہرائی جا رہی ہے۔معصوم بچوں کے قتل عام کا فرعونی ریکارڈ اسرائیل نے توڑ ڈالا۔ اسرائیلی فرعونیت لمحہ فکریہ ہے، لہٰذا پوری دنیا کو یہ جارحیت روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں