اسلام آباد میں دہلی طرز کا نیا نظام حکومت متعارف کرانے کا منصوبہ

اسلام آباد ( بیو رو چیف )اسلام آباد میں دہلی طرز کا نیا نظام حکومت لانے کے لیے وفاقی حکومت متحرک ہوگئی ہے، مجوزہ ماڈل کے تحت منتخب اسمبلی، کونسل اور مختلف محکموں کے انضمام کی تجاویز زیرغورہیں۔رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت اسلام آباد میں ایک نیا طرز حکمرانی متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے، جس کے تحت صحت اور تعلیم سمیت تقریبا تمام محکموں کو آپس میں ضم کیا جائے گا۔وفاقی حکومت کے ایک ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد کے لیے دہلی طرز کا ایک حکومتی نظام زیرِ غور ہے۔وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی ایک کمیٹی کا اجلاس وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیرِ پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثنا اللہ خان، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے اراکینِ قومی اسمبلی راجہ خرم نواز اور انجم عقیل خان نے شرکت کی۔وزیر منصوبہ بندی نے اپنے بیان میں کہا کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی نے دو ماڈلز پر غور کیا ہے اور ان کی حتمی منظوری کے بعد یہ ماڈلز وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیے جائیں گے تاکہ ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جاسکے۔ذرائع کے مطابق مجوزہ نئے ماڈل کے تحت چیف کمشنر اسلام آباد کو چیف سیکرٹری کا درجہ حاصل ہوگا، جیسا کہ صوبوں میں ہوتا ہے۔اجلاس میں ایک مجوزہ منتخب کونسل کے قیام پر بھی غور کیا گیا، جس میں وفاقی حکومت کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ذرائع نے بتایا کہ گھریلو امور، پولیس اور ماسٹر پلاننگ کے سوا سی ڈی اے کے دیگر تمام اختیارات وفاقی حکومت کے پاس رہیں گے، جب کہ تمام دیگر محکمے نئے ماڈل کے تحت چلائے جائیں گے۔ایک ماڈل کے تحت اسلام آباد کے لیے قائم یا مستقبل میں قائم کیے جانے والے تمام ادارے مکمل اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی)پر محیط ہوں گے اور صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں ہوں گے۔ذرائع کے مطابق ان میں سے ایک ماڈل کو اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری گورنمنٹ (آئی سی ٹی جی)کا نام دیا گیا ہے، جو دہلی کی نیشنل کیپیٹل ٹیریٹری (جی این سی ٹی ڈی)کی طرز پر مبنی ہے۔اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اسمبلی (آئی سی ٹی اے)قائم کی جائے صو صوبائی اسمبلیوں کی طرز پر قانون سازی کرے گی۔مجوزہ قانون ساز ادارے میں مجموعی طور پر 31 اراکین ہوں گے، جن میں سے 15 براہِ راست منتخب ہوں گے، 4 نشستیں خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص ہوں گی، جب کہ 12 نشستیں وفاقی حکومت کے نامزد کردہ نمائندوں کے لیے ہوں گی جو تعلیم، صحت، ٹاؤن پلاننگ، تجارت و صنعت، ماحولیات، سول سوسائٹی، قانون اور اقلیتوں جیسے شعبوں کی نمائندگی کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں