امریکہ کا 24گھنٹے میں ایران پر حملے کا امکان

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا آئندہ 24گھنٹوں میں ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔ برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق ایران کیخلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاریاں جاری ہیں، امریکا ایران میں 50اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکا کو ایران کے ممکنہ فوجی اہداف کی فہرست فراہم کر دی گئی جن میں پاسدارن انقلاب کا ہیڈ کوارٹرز بھی شامل ہے، فہرست میں ایرانی فوج کے 23اڈوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔دوسری جانب امریکا نے مشرقِ وسطی میں اپنے فوجی اڈوں سے بعض اہلکاروں کا بھی انخلا شروع کر دیا ہے جسے ممکنہ امریکی حملے کی واضح پیشگی علامت قرار دیا جا رہا ہے، ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر اٹھایا گیا ہے کیونکہ ایران نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ایک اور امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے باعث خطے کے اہم فوجی اڈوں سے کچھ عملہ واپس بلایا جا رہا ہے، اسی تناظر میں برطانیہ بھی قطر میں واقع ایک فضائی اڈے سے اپنے بعض اہلکار نکال رہا ہے۔ ایک مغربی فوجی عہدیدار نے خبر ایجنسی کو بتایا کہ تمام اشارے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکی حملہ جلد ہوسکتا ہے، دو یورپی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی مداخلت آئندہ 24گھنٹوں کے اندر ہو سکتی ہے جبکہ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے مداخلت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ادھر قطر نے بھی تصدیق کی ہے کہ مشرقِ وسطی میں امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے، العدید ایئربیس سے عملے میں کمی موجودہ علاقائی کشیدگی کے باعث کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں