ایک اور بھارتی دعویٰ بے نقاب،3سال میں غربت سے تنگ866افراد کی خودکشیاں

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں مودی سرکار کا ملک کو چوتھی بڑی معیشت بنانے کا فریب بے نقاب ہوگیا، جہاں عوام بھوک اور قرضوں کے بوجھ تلے دب کر خودکشی پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کے کٹھ پتلی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا سب کا ساتھ سب کا وکاس صرف اڈانی و امبانی کا وکاس ثابت ہو رہا ہے جب کہ عام بھارتی عوام غربت، مہنگائی اور پسماندگی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ مودی راج کے معاشی ترقی کے جھوٹے دعووں کو بھوک، قرض اور خودکشیوں کی حقیقت نے بینقاب کر دیا ہے۔مودی راج میں قرض، بھوک اور معاشی ناہمواری نے عام بھارتی شہریوں کو اجتماعی خودکشی جیسے فیصلوں پر مجبور کر دیا ہے۔ تازہ خبروں کے مطابق مودی راج کے گجرات میں بھوک و قرض سے تنگ ایک خاندان نے اجتماعی خودکشی کرلی۔ذرائع کے مطابق 20جولائی کو گجرات کے ضلع احمد آباد میں میاں بیوی اور 3بچوں کی لاشیں گھر سے برآمد ہوئیں۔ والدین نے مبینہ طور پر 2بیٹیوں اور ایک بیٹے کو زہر دے کر خودکشی کر لی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ویپل وگھیلا گھر کا واحد کفیل تھا، جو آٹو رکشہ چلاتا تھا اور بھاری قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔رپورٹ کے مطابق بھارت میں 3سال میں 1866خودکشیاں ہوئیں جن میں 19فیصد مالی دبا اور غربت کی وجہ سے تھیں۔ ویپل وگھیلا کی کہانی مودی کے فریب زدہ گجرات ماڈل کی خوفناک حقیقت کو بے نقاب کر رہی ہے۔گجرات ماڈل کے نام پر مودی سرکار نے صرف غربت، قرض اور بے بسی پھیلائی ہے۔ گجرات میں مودی سرکار کی ساتویں بار حکمرانی کے باوجود لوگ غربت اور قرض کے بوجھ تلے خودکشی پر مجبور ہیں، جہاں سے مودی نے سیاست کا آغاز کیا، وہی گجرات آج بھی بھوک، قرض اور محرومی کی زندہ مثال ہے۔مودی کا نعرہ آں گجرات میں بنایو چھے دراصل بھوک، قرض اور خودکشیوں سے بنے گجرات کی بھیانک حقیقت ہے ۔ بھارت میں معاشی استحصال نے عوام کو ذہنی دبا اور موت کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔مودی سرکار کے معاشی ماڈل کی ناکامی کاثبوت بھارت بھر میں بڑھتے ہوئے خودکشی کے واقعات ہیں۔ بھارتی عوام کے لیے نہ روزگار ہے، نہ قرض معافی کی کوئی گنجائش، صرف سرمایہ داروں کو اربوں کی چھوٹ دی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں