باپ کی زیادتی کا شکار بیٹی حاملہ ہو گئی

جڑانوالہ(نامہ نگار) 2مختلف واقعات میں اوباش افراد نے سکول جاتے ہوئے 13سالہ بچی،باپ نے بیٹی کو دبوچ کر مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا،پولیس تھانہ صدر نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزمان کو حراست میں لے لیا۔پکڑے جانیوالے مرکزی ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔عوامی سماجی حلقوں کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق جڑانوالہ تھانہ صدر کے نواحی گاں چک نمبر 24گ ب کے رہائشی اقبال نے پولیس کو بتایا کہ سائل کی 13سالہ بھتیجی(ش)گھر سے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول میں پڑھنے جا رہی تھی کہ راستہ میں الزام علیہ آصف ولد مشتاق نے اپنے 1کس نامعلوم کے ہمراہ اسے دبوچ لیا اور کماد فصل میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا اور فرار ہو گئے، 13سالہ بچی کیساتھ مبینہ زیادتی کا معاملہ پیش آنے پر اہل دیہہ میں شدید غم و غصہ کی لہر پیدا ہو چکی ہے۔ اہل دیہہ کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل گائوں میں موجود گورنمنٹ پرائمری سکول فار گرلز کی اراضی پر چند افراد نے مبینہ طور پر قبضہ جما لیا تھا جسکے بعد پرائمری سکول کی بچیوں کو ہائی سکول منتقل کر دیا گیا۔ مذکورہ سکول گائوں سے 2کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور بچیاں سکول جاتے ہوئے خوف محسوس کرتی ہے۔ دوسرے واقعہ میں چک نمبر 648گ ب میں باپ عمران نے اپنی بیٹی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا جس پر وہ حاملہ ہو گئی پولیس نے الگ الگ مقدمات کا اندراج کرکے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، 13سالہ بچی اور باپ کا بیٹی کیساتھ مبینہ زیادتی کا معاملہ سامنے آنے پر اہل دیہہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، آر پی او، سی پی او فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ بچی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزم کو کڑی سے کڑی سزا دلوائی جائے، اس حوالہ سے پولیس تھانہ صدر کا کہنا ہے کہ مقدمات میں نامزد مرکزی ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے ملزمان کیخلاف میرٹ پر تفتیش کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں