برطانیہ نے PIAپر عائد پابندیاں ختم کر دیں

اسلام آباد (بیوروچیف) برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق ایئرلائنز کو پروازوں کے لیے اب بھی یو کے سول ایوی ایشن اتھارٹی سے اجازت لینا ہوگی۔ سیفٹی لسٹ سے اخراج آزاد اور تکنیکی عمل کے تحت ہوا۔ پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کا کہنا ہے کہ میں برطانیہ اور پاکستان میں ہوابازی کے ماہرین کی شکر گزار ہوں کہ وہ بین الاقوامی حفاظتی معیارات پر پورا اترنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پروازوں کی بحالی میں وقت لگے گا۔ میں خاندان اور دوستوں سے ملنے کے لیے پاکستانی ایئرلائن سے سفر کی منتظر ہوں۔پروازوں پر پابندیاں ختم کرنے کے اعلان سے چند دن پہلے 11جولائی کو برطانیہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ (ڈی ایف ٹی)کی تین رکنی ٹیم نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سکیورٹی انتظامات اور پروٹوکولز کا جائزہ لینے کا عمل مکمل کیا تھا۔آٹھ جولائی کو برطانیہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ (ڈی ایف ٹی) کی تین رکنی ٹیم اسلام آباد پہنچی تھی جس کا مقصد پاکستان کے سب سے مصروف ترین ایئرپورٹ پر ایوی ایشن سکیورٹی کے انتظامات کا بین الاقوامی معیار کے مطابق تفصیلی جائزہ لینا تھا۔ایئر پورٹ سکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے مطابق ٹیم نے حفاظتی انتظامات کو تسلی بخش قرار دیا تھا۔دوران انسپیکشن برطانوی ٹیم نے سکیورٹی ڈیپلائمنٹ، مسافروں اور سامان کی سکریننگ، داخلی کنٹرول پوائنٹس، کیو آر ایف (کوئیک رسپانس فورس)کی تیاری، ڈرون سکیورٹی میکانزم اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موجود انتظامات کا عملی طور پر معائنہ کیا۔اس موقع پر اے ایس ایف نے انسپیکشن ٹیم کے سامنے تمام سکیورٹی اقدامات کو مکمل تیاری کے ساتھ پیش کیا تاکہ عالمی معیارات پر پورا اترنے کی یقین دہانی کرائی جا سکے۔یاد رہے کہ کراچی میں 22مئی 2020کے پی آئی اے طیارہ حادثے (جس میں 97افراد ہلاک ہوئے) کے بعد اس وقت کے وزیرِ ہوا بازی، غلام سرور خان نے بیان دیا تھا کہ تقریباً ایک تہائی پاکستانی پائلٹس نے جعلی لائسنس حاصل کیے ہیں۔اس انکشاف کے بعد یورپی یونین، برطانیہ اور امریکہ نے پاکستانی ایئرلائنز خصوصا پی آئی اے پر ایوی ایشن سکیورٹی معیارات کی عدم تعمیل کی بنیاد پر اپنی فضائی حدود میں پرواز کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں