جدید زراعت میں مصنوعی ذہانت کو فروغ دیا جائے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ جدید زراعت میں مصنوعی ذہانت کو فروغ دیا جائے تاکہ غذائی استحکام، زرعی کارکردگی اور مستحکم معیشت کے حصول کو ممکن بنایا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقدہ ڈیـ8 بائیو انفارمیٹکس بوٹ کیمپ 2025ئ، 14روزہ تربیتی پروگرام برائے کمپیوٹیشنل جینومکس اور بین الاقوامی سیمینار برائے جدید زراعت میں مصنوعی ذہانت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس کا انعقاد ڈی۔ 8 ریسرچ سینٹر فار ایگریکلچر اینڈ فوڈ سیکیورٹی، مرکز برائے اعلیٰ تعلیم زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور فوڈ اینڈ بائیوٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر لاہور کے اشتراک سے کیا۔ ڈیـ8 ہائی کمشنر احمد امجد علی نے کہا کہ دنیا تیزی سے ٹیکنالوجی اور جدت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں یہ پلیٹ فارمز ہمیں ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں جو نہ صرف باہمی تعاون کو فروغ دے گا بلکہ ہماری تحقیقی صلاحیتوں کو بھی نکھارے گا۔ انہوں نے کہا کہ علم اور مہارت کے تبادلے سے ہم اجتماعی طور پر عالمی چیلنجز سے نبردآزما ہو سکتے ہیں۔زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ حالیہ اقتصادی سروے کے مطابق اہم فصلوں کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں اور پانی کی کمی کو زرعی پیداوار کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دانشمندی اور سرعت سے کام لیں اور تحقیق کو عملی حل میں بدلیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی پریسیئن ایگریکلچر پر کام کر رہی ہے اور اس کے پاس سپر کمپیوٹر کی سہولت بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ڈیٹا موجود ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس سے استفادہ کرتے ہوئے حکمت عملی تیار کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں