جمہوری استحکام کے متنوع راستے

پاکستان کے جمہوری تجربے کو محض ناکامی کے طور پر دیکھنے کی بجائے اسے اداروں، تاریخ اور سیاسی ثقافت کے درمیان جاری ایک مسلسل مکالمہ اور توازن کی جدوجہد کے طور پر سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔ ملک میں آئینی ڈھانچہ برقرار ہے، انتخابات باقاعدگی سے منعقد ہوتے ہیں اور حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ تاہم جمہوریت کی حقیقی مضبوطی ابھی مکمل طور پر قائم نہیں ہو سکی۔ اس کی بنیادی وجہ سیاسی برداشت کا فقدان ہے، یعنی ایسا سیاسی ماحول جہاں اختلافِ رائے، تنوع اور تنقید کو قبول کیا جا سکے۔ درحقیقت سیاسی استحکام اور معاشی ترقی دونوں کے لیے سیاسی برداشت ناگزیر ہے۔پاکستان کی ریاستی تشکیل اور سکیورٹی ڈھانچہ طویل عرصے سے فوجی ادارے کے کردار سے وابستہ رہا ہے۔ مختلف بحرانوں کے دوران پاکستان آرمی نے قومی یکجہتی برقرار رکھنے، علاقائی سالمیت کے تحفظ اور اندرونی سکیورٹی کے خطرات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاریخ کے مختلف مراحل میں فوجی مداخلت اکثر سیاسی کمزوریوں اور حکومتی ناکامیوں کے ردعمل کے طور پر سامنے آئی۔ اگرچہ اس سے جمہوری تسلسل متاثر ہوا، لیکن اس نے سول اداروں کی ساختی کمزوریوں کو بھی نمایاں کیا۔حالیہ برسوں میں ادارہ جاتی توازن اور آئینی بالادستی کی اہمیت کے بارے میں شعور میں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔ جمہوری حکومت اور ریاستی اداروں کے درمیان مقابلہ آرائی کی بجائے ایک متوازن سول۔ملٹری شراکت داری، جس کی بنیاد آئینی حدود کے احترام پر ہو، جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ جب سیاسی قیادت ذمہ داری اور اہلیت کا مظاہرہ کرے اور سکیورٹی ادارے پیشہ ورانہ انداز میں آئینی نظم کی حمایت کریں تو سیاسی استحکام زیادہ دیرپا ہو سکتا ہے۔اس کے باوجود پاکستان میں جمہوری انتقالِ اقتدار اکثر چیلنجز اور تنازعات کا شکار رہا ہے۔ مستحکم جمہوریتوں کے برعکس جہاں اقتدار کی تبدیلی اداروں پر اعتماد کو بڑھاتی ہے، پاکستان میں انتخابات کے نتائج پر اعتراضات اور سیاسی کشیدگی عام رہی ہے۔ حکومتوں کے لیے اپنی آئینی مدت مکمل کرنا بھی ایک مشکل مرحلہ ثابت ہوتا رہا ہے۔ تاہم ہر انتخابی مرحلہ عوامی شرکت، میڈیا کی سرگرمی اور سیاسی شعور میں اضافہ بھی لایا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ جمہوری عمل بتدریج سیکھنے اور ارتقا کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ملک کے اندر سیاسی ہم آہنگی ابھی تک ایک ادھورا عمل ہے۔ شدید سیاسی رقابت اور شخصی سیاست نے اکثر اتفاقِ رائے کے مواقع محدود کیے ہیں۔ تاہم جمہوری معاشروں میں مکمل ہم آہنگی ضروری نہیں ہوتی، بلکہ اہم بات یہ ہے کہ سیاسی قوتیں کھیل کے اصولوں پر متفق ہوں۔ جب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو دشمن کی بجائے جائز سیاسی فریق سمجھیں تو پارلیمان مباحثے اور قانون سازی کا مؤثر فورم بن سکتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی حقیقتوں میں تنوع ایک مستقل عنصر ہے۔ علاقائی، نسلی اور نظریاتی اختلافات نے ہمیشہ سیاسی منظرنامے کو تشکیل دیا ہے۔ اس تنوع کو دبانے کی بجائے اسے شمولیت کے ذریعے منظم کرنا ضروری ہے۔ جہاں سیاسی شرکت منصفانہ اور شفاف ہو وہاں شکایات جمہوری طریقوں کے ذریعے سامنے آتی ہیں، جبکہ محرومی کی صورت میں بے چینی بڑھتی ہے۔ اس لیے سیاسی برداشت محض اخلاقی قدر نہیں بلکہ قومی یکجہتی کی عملی ضرورت ہے۔انتہاپسندی کے خلاف جدوجہد میں بھی یہی اصول بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پائیدار انسدادِ انتہاپسندی کے لیے صرف سکیورٹی اقدامات کافی نہیں ہوتے بلکہ جمہوری حکمرانی کی ساکھ بھی ضروری ہوتی ہے۔ جب شہری یہ محسوس کریں کہ انصاف منصفانہ انداز میں فراہم ہو رہا ہے اور سیاسی شرکت بامعنی ہے تو انتہاپسند بیانیے اپنی کشش کھو دیتے ہیں۔ اس طرح سیاسی برداشت ریاستی پالیسیوں اور سماجی معاہدے کی ساکھ کو مضبوط کرتی ہے۔یہ عمل معاشی تبدیلی سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ سرمایہ کار، منڈیاں اور ترقیاتی شراکت دار ایسے ماحول کو ترجیح دیتے ہیں جہاں پالیسیوں میں تسلسل، ادارہ جاتی استحکام اور قانون کی حکمرانی موجود ہو۔ شدید سیاسی کشیدگی، عدم برداشت اور بار بار کی رکاوٹیں غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہیں۔ اس کے برعکس برداشت پر مبنی جمہوری فضا طویل مدتی منصوبہ بندی، معاشی شمولیت اور پالیسیوں کے تسلسل کو فروغ دیتی ہے۔ یوں استحکام مسلط نہیں کیا جاتا بلکہ تدریجی طور پر تشکیل پاتا ہے۔پاکستان کے لیے اصل چیلنج اداروں کے کردار کو کمزور کرنا نہیں بلکہ انہیں مضبوط بنانا ہے۔ سول حکومتوں کے لیے مثر اور شمولیتی طرزِ حکمرانی ضروری ہے، جبکہ سیاسی جماعتوں کو انتخابی سیاست سے آگے بڑھ کر جمہوری اقدار کو اپنانا ہوگا۔ اسی طرح سکیورٹی اداروں کو بھی آئینی دائرے میں رہتے ہوئے پیشہ ورانہ کردار کو مزید مستحکم کرنا چاہیے۔ جب یہ عناصر ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں تو سیاسی برداشت قومی استحکام اور ترقی کی بنیاد بن سکتی ہے۔پاکستان کے جمہوری مستقبل کا انحصار کسی ایک ادارے کے انتخاب پر نہیں بلکہ اداروں کے درمیان توازن اور ہم آہنگی پر ہے۔ ایک کثرت پسند، روادار اور قانون کی حکمرانی پر مبنی سیاسی نظام ہی سیاسی استحکام اور معاشی بحالی کی مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ درحقیقت مضبوط جمہوریت کے لیے سیاسی برداشت ناگزیر ہے۔ جامع سیاسی مکالمے کے فروغ، جمہوری اداروں کی مضبوطی، شہری شعور میں اضافے اور ذمہ دارانہ میڈیا کردار کے ذریعے عدم برداشت کو کم کیا جا سکتا ہے اور ایک زیادہ مستحکم اور جمہوری معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ یہی اقدامات سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتے اور جمہوری اقدار کو مستحکم کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں