جگر کے مرض کا شکار بنانے والی عام وجہ دریافت

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) جگر کے امراض کافی تکلیف دہ اور جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔اب محققین نے دریافت کیا کہ رات کے وقت لوگوں کی ایک عام عادت جگر کے عام امراض کا شکار بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ رات کے معمولات اور میٹابولک تبدیلیاں زیادہ جسمانی وزن کے مالک افراد میں جگر کے امراض کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔جگر پر چربی چڑھنے کا عارضہ جگر کا عام ترین مرض ہے اور دنیا بھر میں 40 فیصد بالغ افراد اس سے متاثر ہیں۔اس کی شدت سنگین ہونے سے جگر کے افعال فیل ہونے، جگر کے کینسر اور امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے۔اس بیماری کو زیادہ جسمانی وزن سے منسلک کیا جاتا ہے جبکہ انسولین کی مزاحمت بھی اس کا ایک اہم سبب ہے جس سے جگر پر چربی جمع ہونے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ رات کے وقت دن بھر کی زیادہ کیلوریز کو جزوبدن بنانے سے اس عارضے سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ رات کو میٹابولزم افعال زیادہ بہتر طریقے سے کام نہیں کرتے جبکہ زیادہ غذا سے وہ افعال مزید متاثر ہوتے ہیں، جس سے جگر پر چربی چڑھنے کی شرح تیز ہوسکتی ہے۔محققین نے بتایا کہ جگر پر چربی چڑھنے کے عارضے کی علامات اکثر ظاہر نہیں ہوتیں تو اس کا علم مشکل سے ہوتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ رات کے وقت ہمارا جسم انسولین پر کم ردعمل ظاہر کرتا ہے، جگر زیادہ چربی بنانے لگتا ہے جبکہ مسلز اور پیٹ کی چربی کے ٹشوز کے میٹابولزم افعال زیادہ مثر انداز سے کام نہیں کرپاتے۔ان کا کہنا تھا کہ یہاں تک کہ جسمانی وزن میں کمی لانے اور جگر کی چربی کو کم کرنیکے بعد بھی میٹابولزم کے افعال میں رات کے وقت زیادہ بہتری نہیں آتی، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ رات کے وقت ان افعال کی تنزلی جگر کے اس عام ترین مرض کا سبب بنتی ہے۔محققین کے مطابق سونے سے کچھ دیر قبل بہت زیادہ کیلوریز کے استعمال سے ہمارا جسم غذا کو زیادہ مثر انداز سے جذب نہیں کرپاتا جس کے باعث گلوکوز اور چکنائی جگر میں ذخیرہ ہونے لگتے ہیں۔اس تحقیق کے نتائج جرنل سیل میٹابولزم میں شائع ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں