ایران، امریکہ اور اسرائیل جنگ خوفناک طریقے سے شروع ہوئی اور امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ اور اس کے نتیجے میں ایران کا کچومر نکالنے کے ناپاک عزائم اور اللہ معاف کرے خدائی دعوے۔ جینوں اللہ رکھے اوہنوں کون چکھے۔ بالآخر سب نے ہی اس جنگ کے اپنے اپنے حساب سے مزے چکھے، ایران کی قیادت شہید ہوگئی اور بھی ناقابل بیان نقصان ہوگیا تاہم عزائم ان کے مزید پختہ ہوگئے اور نظر ان کی خدا پر پہلے ہی تھی مزید یہ کہ بادی النظر میں اللہ تعالی نے ان کے دل میں سٹریٹ آف ہرمز کی اہمیت کی بات ڈال دی پھر تو تیل کی سپلائی میں رکاوٹ اور یوں ساری دنیا کی نظریں ایران کی طرف۔ اسرائیل نے اپنا خواب گریٹر اسرائیل سچ کر دکھانے کے لئے انتہا کردی اور اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے تیزی دکھانی شروع کردی جس سے امریکہ کے بارے میں اقوام عالم کے درمیان مزید بدظنی پیدا ہونے لگی اور ٹرمپ آئیں بائیں شائیں۔ عرب ممالک خصوصاً دبئی جیسی ریاستوں کا بے تحاشہ نقصان اور اس طرح مذکورہ عرب ممالک بھی سوچنے پر مجبور۔ ویسے بھی یہ ملک تو بے چارے پہلے بھی مجبور تھے اس لئے امریکہ اور اسرائیل گٹھ جوڑ کا کوڑا گھونٹ بھرنا ان کی مجبوری۔ ساری دنیا اور تیل سپلائی کا مسئلہ۔ پہلی دفعہ امریکہ ایران جنگ سے معلوم ہوا کہ سٹریٹ آف ہرمز کی بین الاقوامی تجارت میں کیا اہمیت ہے اور اس اہمیت میں ایران کا کتنا اہم کردار ہے۔ جنگیں جیتنے کے لئے تجارتی راستوں کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے اور اسی بات نے ایران کی شکست کو فتح میں تبدیل کردیا مزید اس کو چوکنا اور ہوشیار بھی کردیا یقینا ایران اب اپنی منصوبہ بندی بہتر بنانے کی پوزیشن میں ہے اور اب کے جاسوسوں کا ایران سے بیٹھ کر پلے کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا اور اس طرح ان کا انٹیلی جنس سسٹم بھی بہتر ہو جائیگا۔ آنے والے دنوں میں ایران، اسرائیل اور انڈیا گٹھ جوڑ بھی فارغ۔ اب جنگ کے نتیجے میں امریکہ صاحب بہادر۔ امریکہ کی کسی پر ”تک” نہیں پڑ رہی تھی اور وہ اپنی مرضی سے کھیل رہا تھا بلکہ کھل کے کھیل رہا تھا اس کے لئے ساری دنیا یک رویہ سڑک بن چکی تھی۔ جسے چاہتا تھا وہ بے عزت ہوجاتا تھا۔ جسے چاہتا تھا وہ اٹھوا لیا جاتا تھا اور امریکہ کے سامنے کسی کی کیا مجال۔ ون وے ٹریفک اور ساری ٹریفک بلا روک ٹوک۔ اس جنگ میں پہلی دفعہ امریکن صدر کو دھمکیوں اور بڑھکوں کا سہارا لینا پڑا اور بالآخر وہ سہارا بھی ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ تند وتیز تبدیلی کی ہوائیں یوں چلیں کہ امریکہ کے غبارے سے ہوا مکمل طور پر نکل گئی اور ہم آئے آزمائش میں کام۔ پاکستان زندہ باد۔ پوری دنیا جنگ عظیم سوئم کے ممکنہ خطرات کی وجہ سے پریشان اور مایوس۔ تمام نظریں پاکستان کی طرف اور پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے دانشمندانہ اقدامات۔یہ ایک حقیقت ہے کہ مشکل وقت میں کام آنے والے ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں اور محض یاد ہی نہیں رکھے جاتے ان کا فیوچر پلاننگ میں ایک کردار لازم ہوجاتا ہے۔ ماضی قریب میں پاکستان کی سفارت کاری۔ کرنے والے باتیں بناتے تھے اور ہم کو بیک بینچر سمجھا جانے لگا تھا یہ جنگ ہماری صلاحیتوں کا امتحان تھی۔ ایک طرف عرب ممالک، دوسری طرف ایران، تیسری طرف چین اور روس کی خاموشی اور پھر امریکہ وہ بھی ٹرمپ کی زیرقیادت۔ مزے کی بات ہے کہ ہمارے وزیراعظم اور چیف آف فیلڈ سٹاف کے بارے میں صدر مذکور کے بار بار تعریفی کلمات اور ان سے متعدد ملاقاتیں۔ ایسی صورتحال میں عموما دوسرا مخالف ملک آپ کے بھی خلاف ہوجاتا ہے یعنی ایران کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے کشیدہ ہونے کے شدید امکانات تھے۔ بین الاقوامی سیاست کو بھی آپ نے مدنظر رکھنا تھا۔ اس پیچیدہ ماحول میں پاکستان کا سرخرو ہوجانا اور سب متعلقہ قوتوں کا پاکستان پر اعتماد کا اظہار کرنا۔ اس اتنی بڑی کامیابی پر انڈیا کی چیخیں اور بے بسی اور پاکستان کی سفارت کاری۔ بے مثل، بے نظیر اور لاجواب۔ وزیراعظم پاکستان، فیلڈ مارشل پاکستان اور وزیر خارجہ پاکستان کے لئے بھرپور خراج تحسین بنتا ہے بلکہ ساری قوم کو اس عظیم کامیابی پر مبارک دینا ہوگی۔ سپیڈ ورک کے بغیر کوئی کام اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچتا ہے لہذا محترمہ آمنہ بلوچ سیکرٹری خارجہ امور اور ان کی ساری ٹیم کے لئے بھی ستائش۔ راقم الحروف کو سیکرٹری خارجہ امور مذکور کا کلاس فیلو ہونے کا شرف حاصل ہے۔خیر اس کامیابی میں کیا کھویا کیا پایا۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ کچھ حقائق تو حقیقت بن چکے ہیں۔ ہم پوری دنیا کی نظر میں آچکے ہیں بلکہ آزمائے جا چکے ہیں اور اس کے نتیجے میں دنیا کی نظریں ہم پر بھی لگ گئی ہیں۔ ہم ایک دفاعی قوت کے طور پر پہلے ہی ابھر چکے تھے اب تیسری دنیا کے بے شمار ممالک ہماری طرف دیکھیں گے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ انرجی بحران کا ہے۔ ایران کی تیل سپلائی لائن ہماری بارڈر لائن تک پہنچ چکی ہے اور انشااللہ ایران پر پابندیوں کے خاتمے کے نتیجے میں اس لائن کی تکمیل یقینی ہوجائیگی اور سستا تیل ہماری ضرورت اور یہ ضرورت پوری ہونے جارہی ہے۔ ایران پاکستان اور چین کے تعاون سے ہماری بندرگاہ گوادر مکمل طور پر فنکشنل ہوجائیگی اور ایرانی بندرگاہ چاہ بہار چین کے زیر استعمال۔ہماری معیشت پر ان سارے عوامل کا مثبت اثر ہوگا۔ ہماری درآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا ہمارے کینوں اور آلو جیسی اجناس کی کھپت ہوجائیگی۔ ایرانی صدر کا پاکستان کا دورہ اور محبت، اخلاص اور تشکر کے جذبات۔ دونوں ممالک نے مشترکہ سرحد کو بارڈر آف پیس سے بارڈر آف پراسپیریٹی میں تبدیل کرنے کے لئے مشترکہ بارڈر مارکیٹس، اقتصادی زونز اور توانائی کے منصوبوں پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ ایران انڈیا گٹھ جوڑ کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا جس کا دہشت گردی کے خاتمے میں ہمیں فائدہ ہوگا۔ پاکستان کے متذکرہ بالا کردار کی بدولت آئندہ ایران اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کا قوی امکان ہے۔ ہر لحاظ سے خیر ای خیر۔ اب ایران امریکہ جنگ کے سب کرداروں کو احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اس معاہدے کی پاسداری کرنا ان سب کا قانون بین الاقوام کے لحاظ سے قانونی فرض بھی ہے اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ خصوصاً ایران کو ماضی کے حالات کو بھولنا ہوگا اور جہان نو کی بنیاد رکھنا ہوگی۔ بقول اقبال (اگر عثمانیوں پہ کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے۔۔۔کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا) اقبال کی بصیرت اور ادراک انہوں نے تو ایران کو عالم مشرق کا جنیوا(تہران ہو اگر عالم مشرق کا جنیوا۔۔۔ شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے) اس طرح اپنے تابناک مستقبل کے لئے ایران کو بڑا ہی محتاط پلے کرنا ہوگا اور عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کے بارے میں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ پاکستانی قیادت کو اس موقعہ سے حاصل ہونے والے فوائد کے تسلسل کو بلاتعطل آگے بڑھانا ہوگا تاکہ شاعر مشرق کا خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے۔




