حوالات میں3قتل ،پولیس کی سہولت کاری کے بغیر ناممکن قرار

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) تھانہ صدر تاندلیانوالہ کی حوالات میں بند تین بھائیوں کے قتل اور چوتھے بھائی کو زخمی کرنے کا معاملہ’ پولیس کی کارکردگی پر کئی سوال اٹھا دیئے، حوالات میں بند افراد کو قتل کرنا پولیس کی سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں، پولیس کی جانب سے مقتولین کے ورثاء کی بجائے انچارج انوسٹی گیشن کی مدعیت میں 5نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر لواحقین سراپا احتجاج بن گئے، سی پی او کے بعد آر پی او ڈاکٹر عابد خان بھی تھانہ صدر تاندلیانوالہ پہنچ گئے، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ہائی پروفائل انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔ ڈی آئی جی انٹیلی جنس سپیشل برانچ فیصل علی راجا کی سربراہی میں اے آئی پی آپریشنز پنجاب زاہد نواز مروت اور اے آئی جی کمپلینٹس احسان اﷲ چوہان پر مشتمل کمیٹی نے موقع پر پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ چوبیس گھنٹے گزرنے کے باوجود کسی افسر یا اہلکار کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ تفصیل کے مطابق تھانہ صدر تاندلیانوالہ کے انچارج انوسٹی گیشن انسپکٹر محمد شفیق کی مدعیت میں تہرے قتل کا مقدمہ درج کرتے ہوئے بتایا کہ پرانی دشمنی پر تین افراد کے قتل میں ملوث چار بھائیوں بلال’ ناصر’ عثمان اور آصف کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کیا تھا۔ رات کی تاریکی میں علی الصبح 5مسلح ملزمان تھانہ کی عقبی دیوار کے ساتھ سیڑھی لگا کر داخل ہوئے اور سنتری کانسٹیبل نے روکنے کی کوشش کی جس پر ملزمان نے پولیس پر سیدھی فائرنگ کر دی، سنتری نے برآمدہ کے ستون کی طرف اوٹ لیکر جان بچائی، آتش اسلحہ سے لیس مسلح افراد نے فائرنگ کر کے حوالات میں بند تین بھائیوں بلال’ عثمان اور ناصر کو مار ڈالا اور ان کا چوتھا بھائی آصف گولیاں لگنے سے بری طرح زخمی ہو گیا اور ملزمان ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے، مقتولین کے لواحقین نے پولیس کی مدعیت میں زیردفعہ 302، 324، 353، 186، 427، 148، 149 ت پ کے تحت مقدمہ درج کیا جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں آتشیں اسلحہ سے لیس 8مسلح افراد کی فوٹیج سامنے آنے پر سراپا احتجاج بن گئے۔ لواحقین کا کہنا تھا کہ تھانہ کی حوالات میں تین بھائیوں کا قتل پولیس کی سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں، حوالات میں زیرحراست ملزمان کو قتل کر کے ملزمان باآسانی فرار ہو جاتا ہے، پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گیا، عوام کے جان ومال کی حفاظت کے دعوے کرنے والوں کے تھانے بھی محفوظ نہیں رہے۔ تاہم پوسٹ مارٹم کے بعد تینوں بھائیوں کی نعشیں ان کے آبائی گائوں 422 گ ب پہنچیں تو گائوں میں خوف کا سماں تھا، مقتولین کی ہمشیرہ کا کہنا تھا کہ ان کو قتل’ اقدام کے مقدمہ کا مدعی بنایا جائے۔ آئی جی پنجاب کی جانب سے ہائی پروفائل انکوائری کمیٹی نے سنتری سمیت دیگر اہلکاروں کے بیانات قلمبند کر کے موقع سے شواہد اکٹھے کئے۔ انکوائری رپورٹ آنے پر قصور واروں کا تعین کیا جائے گا۔ دیکھنا ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں