جنگ میں شدت،ایران کے اسرائیل،امریکی اڈوں پر خوفناک حملے

مقبوضہ بیت المقدس، تہران، بیروت (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے رات گئے مشرق وسطی میں امریکا کے6فوجی اڈوں سمیت اسرائیل کے مختلف شہروں پر میزائلوں سے حملہ کر دیا، سعودی دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے سے 2ڈرون ٹکرانے کے بعد آگ لگ گئی۔ذرائع کے مطابق ایران نے بحرین، عراق، امارات اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، امریکی فوجی اڈوں کے علاوہ ایران نے اسرائیل کے مختلف شہروں پر بھی میزائلوں سے حملہ کیا۔ایران نے اسرائیلی وزیراعظم کے دفتراور اسرائیلی فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر پر بھی حملہ کیا، ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں حملوں میں خیبر میزائل استعمال کیے گئے، تل ابیب، حیفا اور مشرقی بیت المقدس پر بھی حملے کیے گئے۔خطے میں کشیدہ صورت حال کے پیش نظر اردن میں امریکی سفارتخانہ خالی کروا لیا گیا، امریکی ایمبیسی کے لاڈ سپیکر سے اعلان کیا گیا کہ عملہ محفوظ مقام کی جانب رخ کرے۔ آسٹریلوی وزارت دفاع نے ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے دبئی میں امریکی فوجی اجتماع پر حملے کی تصدیق کردی۔ترجمان آسٹریلوی وزارت دفاع کے مطابق ال منہاد ایئر بیس میں آسٹریلوی فوجی موجود تھے، حملے میں تمام محفوظ ہیں، 100آسٹریلوی اہلکار مشرقِ وسطی میں تعینات ہیں،زیادہ تر یو اے ای میں ہیں۔واشنگٹن ڈی سی میں قائم انسانی حقوق تنظیم کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران 85عام شہری اور 11فوجی اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ 28فروری سے شروع ہونے والے امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد اب تک مجموعی طور پر کم از کم 742شہری شہید ہو چکے ہیں۔ہرانا کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 176بچے بھی شامل ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کے حملوں میں 6امریکی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر سینٹ کام کے آفیشل اکائونٹ سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ امریکی افواج نے ان دو فوجیوں کی باقیات بھی برآمد کر لی ہیں جو پہلے لاپتہ تھے، 2لاپتہ فوجی ایران کے ابتدائی حملوں کے دوران مارے گئے تھے۔اسرائیلی فوج نے جنوبی بیروت کے دو محلوں کے رہائشیوں کو کئی عمارتوں سے دور رہنے کی ہدایت بھی شامل ہے، کیونکہ وہاں جلد فوجی کارروائی متوقع ہے۔جارح فوج نے ٹیلی گرام پر پیغام جاری کیا کہ لبنان کے 59علاقوں کے رہائشیوں کے لیے ہنگامی انتباہ، خصوصا ان دیہات کے مکینوں کے لیے جن کے نام درج کیے گئے ہیں، اپنی حفاظت کے لیے آپ فوری طور پر اپنے گھروں کو خالی کر دیں۔سعودی وزارت دفاع کے مطابق واقعے میں عمارت کو جزوی نقصان پہنچا، عمارت خالی ہونے کے سبب کو ئی جانی نقصان نہیں ہوا۔رپورٹ کے مطابق امریکی سفارت خانے پر دو ڈرون ٹکرانے کے بعد ڈپلومیٹک کوارٹر میں دو دھماکے بھی سنے گئے۔ادھر امریکی صدر نے ٹرمپ نے کہا کہ ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے کا ردعمل جلد دکھائی دے گا، ردعمل میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بھی بدلہ شامل ہوگا۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران میں نشریاتی ادارے کی عمارت سمیت مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، اسرائیلی حملوں کے بعد تہران میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کی تصدیق ایرانی میڈیا نے بھی کی۔روسی میڈیا کے مطابق اردن کے فضائی دفاعی نظام کی جانب سے ایرانی میزائل روکنے کی کوشش ناکام ہوگئی، جس کے بعد اردن کا میزائل اپنے ہی فوجی اڈے سے جا ٹکرایا اور علاقہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔قطری وزارت دفاع نے کہا ہے کہ قطر کی حدود میں اب تک ایران کے 101بیلسٹک، 3کروز میزائل، 39ڈرون طیارے داخل ہوئے، قطری دفاعی نظام نے 3کروز، 98بیلسٹک میزائل اور 24ڈرون فضا میں تباہ کردیے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیپٹل ہل پر 8ارکان کانگریس کو بریفنگ میں کہا کہ ایران پر اسرائیل حملہ کرنے والا تھا، جواب میں امریکا کے نشانہ بننے کا خدشہ تھا، اگر دفاعی رویہ اپنایا جاتا تو امریکا کو زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑتا۔رکن کانگریس جواکھم کاسترو نے کہا کہ ایران پر حملے کیلئے اکسا کر اسرائیل نے امریکا کو خطرے میں ڈالا، اسرائیل کو روکنے کے بجائے ٹرمپ انتظامیہ جنگ میں شریک ہوگئی۔بلومبرگ کے مطابق متحدہ عرب امارات اور قطر نے اتحادیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرمپ ایران کے معاملے پر کشیدگی کم کرنے میں مدد کریں، امارات اور قطر ایک وسیع اتحاد بنانا چاہتے ہیں، تاکہ تنازع کا فوری سفارتی حل نکالا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات اور قطر خطے میں کشیدگی کے پھیلائو کو روکنا چاہتے ہیں، اور ایسا حل چاہتے ہیں جس سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ روکا جا سکے۔دریں اثنائ۔تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریلوی وزارت دفاع نے ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے دبئی میں امریکی فوجی اجتماع پر حملے کی تصدیق کردی۔ترجمان آسٹریلوی وزارت دفاع کے مطابق ال منہاد ایئر بیس میں آسٹریلوی فوجی موجود تھے، حملے میں تمام محفوظ ہیں،100آسٹریلوی اہلکار مشرقِ وسطی میں تعینات ہیں،زیادہ تریواے ای میں ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ دبئی میں امریکی فوجی اجتماع کو نشانہ بنایا ہے،حملہ اس وقت کیا جب 160فوجی موجود تھے،حملے میں 40فوجی ہلاک اور 70زخمی ہوئے،تاہم امریکا اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل نہیں آیا۔اماراتی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ ایران نے متحدہ عرب امارات میں کئی میزائل داغ دئیے،ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔دوسری جانب امریکا نے 14خلیجی ممالک سے اپنے شہریوں کو نکلنے کا حکم دیدیا،امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق شدید سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر شہریوں کو انخلا کی ہدایت دی ہے،فہرست میں بحرین ،مصر ،ایران ،عراق ،اسرائیل، اردن، کویت کے نام شامل ہیں،اس کے علاوہ لبنان ،عمان ،قطر، سعودی عرب ،شام، یواے ای اور یمن بھی فہرست میں شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں