حکومت ریلوے کی بہتری کیلئے موثر اقدامات کرے

ملتان(بیوروچیف)مرکزی صدر پاکستا ن ریلوے پریم یونین شیخ محمد انور نے ملتان پریس کلب میں مرکزی چیف آرگنائزر خالد محمود چوہدری، صدر ملتان ڈویژن رانا محمد شریف، محمد اویس حمید، رانا جاوید، شیخ نعیم، زاہد اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور فیلڈ مارشل منافع بخش ریلوے پر توجہ دیں اور ریلوے کے اندر بے لاگ احتسا ب کیا جائے اور جزا و سزا کا نظام نافذ کیا جائے تب ہی ریلوے کا نظام حقیقی معنوں میں سدھر سکتا ہے شیخ رشید نے بہت ساری ٹرینیں بند کر دیں جس کی وجہ سے اج مختلف علاقوں میں مسافر پریشان ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا شیخ محمد انور نے مزید کہا کہپاکستان ریلوے آرمی کے بعد ملک کا سب سے بڑا قومی، دفاعی اور فلاحی ادارہ ہے چاروں صوبوں کی خوبصورت زنجیر ہے بلکہ پاکستان ریلوے اس ملک کا پانچواں صوبہ ہے چند دن قبل ملکی میڈیا پر یہ بڑی خبر آئی کہ پاکستان ریلوے نے آمدن کے سابقہ ریکارڈ توڑتے ہوئے 88 ارب روپے کی ریکارڈ آمدن حاصل کی ڈوبتی ہوئی ریلوے میں یہ ریکارڈ کیسے بنا یہ اہم سوال تھا۔ یہ کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟یہ سوال ہر زبان پہ تھا۔ پاکستان ریلوے کے جنرل مینیجر/ چیف ایگزیکٹیو آفیسر عامر علی بلوچ نے ذمہ داریاں سنبھالیں اور دن رات ریلوے مزدوروں کے ساتھ مل کر محنت کی، بند پیسنجر ٹرینیں چلائیں، نئی گ ڈز ٹرینوں کو چلایا، دانشمندی سے پالیسیاں بنائیں، کرپشن اور چوربازاری کے تمام راستوں کو حتی الامکان بند کیا اور ایک سال سے بھی کم مدت میں تقریبا 9 ماہ میں ریکارڈ ساز آمدن حاصل کرلی وفاقی بجٹ کی آمدآمد ہے، معرکہ حق و باطل بنیان مرصوص میں پاکستانی قوم میں جس طرح اتفاق اور اظہاریکجہتی پیدا ہوا ہے اسی طرح آنے والے بجٹ میں اسے مزیدمضبوط اور تواناکیاجاسکتاہے۔ہماری فیلڈمارشل جنرل سیدعاصم منیر سے اپیل ہے کہ انہوں نے جس طر ح معرکہ حق و باطل بنیان مرصوص میں اپناقائدانہ کرداراداکیا ہے جس کی پوری قوم معترف ہے اسی طرح آنے والے بجٹ میں بھی اپنی قائدانہ صلاحیتیوں کو استعمال کرتے ہوئے قوم میںپیداہوئی اظہاریکجہتی کومزیدمضبوط کرنے میں اپناکردار اداکریں ریلوے مزدوروں اور پوری قوم کو خدشہ ہے کہ آئی ایم ایف کے دباو اورحکومت میں چھپے ان کے ایجنٹ آنے والے بجٹ میں ایسے فیصلے کرنے کاارادہ رکھتے ہیں جس کے ذریعے قوم میں موجود اظہار یکجہتی اور اتفاق کو پارہ پارہ کیاجا ئے آئندہ بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں کم از کم سو فیصد اضافہ کیاجائے سکیل ایک سے لے کر سولہ تک کے ملازمین اور پنشنرز کوانکم ٹیکس سے مستثنیٰ قراردیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں