لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کے کل ایٹمی ذخائر کا 82 فیصد حصہ صرف روس اور امریکہ کے پاس ہے،روس چار ہزار380، امریکا تین ہزار 700ہیڈز کے ساتھ سر فہرست، چین 620 ، فرانس290ہتھیار ہیں، برطانیہ225بھارت 190 پاکستان170اسرائیل لگ بھگ90 اور شمالی کوریا60وار ہیڈز کے مالک ہیں ،اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے اپنی نئی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیاروں کی موجودہ صورتحال پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری مقابلے اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے جنگی خطرات کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے جبکہ رپورٹ میں یہ انتباہ بھی جاری کیا ہے کہ ایٹمی کمانڈ سسٹم میں مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا استعمال غیر یقینی کی ایک لہر پیدا کر رہا ہے جو پوری دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے رپورٹ میں درج تفصیلات کے مطابق جو اعداد و شمار بتائے گئے ہیں جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت دونوں اپنے جوہری پروگراموں کو تیزی سے وسعت دے رہے ہیں جنوری 2026 تک بھارت کے پاس لگ بھگ 190اور پاکستان کے پاس 170ایٹمی وار ہیڈز موجود تھے اگرچہ دونوں ممالک کے پاس زمین فضا اور سمندر سے ایٹمی حملہ کرنے کی صلاحیت یعنی نیوکلیئر ٹرائڈ موجود ہے اور اس میں وسعت بھی دی جا رہی ہے لیکن دونوں کی جنگی حکمت عملی میں واضح فرق ہے۔




